Masarrat
Masarrat Urdu

میانمار میں فضائی حملوں میں 15 شہری ہلاک، 32 افراد زخمی

  • 02 Nov 2026
  • مسرت ڈیسک
  • دنیا
Thumb

نیپیڈا، 2 نومبر (مسرت ڈاٹ کام) میانمار کے فوجی طیاروں نے اتوار کو راکھین اور کرینی ریاستوں کے 4 قصبوں میں فضائی حملے کیے، جن میں ایک شیر خوار بچے سمیت کم از کم 15 عام شہری ہلاک اور 32 دیگر زخمی ہو گئے۔

میانمار پر مرکوز آزاد خبر رساں ادارے ’دی ایراودی‘ نے پیر کو اپنی رپورٹ میں بتایا کہ ان حملوں میں کیاؤکتاؤ، مروک یو، پاؤکتاؤ اور کیاؤکفیو قصبوں کے رہائشی علاقوں اور ایک زچگی مرکز کو نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں راکھین ریاست میں 12 افراد ہلاک ہو گئے۔

اس سے پہلے ہفتے کے روز کرینی ریاست کے مشرقی قصبے لوئیکاؤ میں بھی فضائی حملہ کیا گیا تھا، جس میں فوجی طیاروں نے ایک اسکول پر بمباری کی، جس سے 3 بچوں کی موت ہو گئی اور 8 دیگر زخمی ہو گئے۔

رپورٹ کے مطابق، یہ بچے چھٹی کے دن ایک غذائی پروگرام میں شرکت کے لیے اسکول میں جمع ہوئے تھے۔

میانمار میں جاری مسلح تنازع کے دوران ان حملوں سے عام شہریوں کی ہلاکتوں کی تعداد میں مزید اضافہ ہو گیا ہے۔ یہ تنازع فروری 2021 میں اس وقت مزید شدت اختیار کر گیا تھا، جب من آنگ ہلائنگ کی قیادت میں فوج نے منتخب حکومت کو اقتدار سے ہٹا کر ملک کی باگ ڈور اپنے ہاتھوں میں لے لی تھی۔ فوجی بغاوت کے بعد سے ملک کے مختلف حصوں میں کئی نسلی مسلح تنظیمیں اور دیگر باغی گروپ فوج کی قیادت والی حکومت کے خلاف لڑ رہے ہیں۔

راکھین صوبے میں روہنگیا برادری کی بڑی آبادی رہتی ہے۔ یہ بنیادی طور پر مسلم اقلیتی برادری ہے، جسے کئی دہائیوں سے میانمار کی فوج کے مظالم اور تشدد کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ اس کے ساتھ ہی انہیں دیگر مسلح گروپوں سے بھی خطرات لاحق ہیں۔ گزشتہ چند برسوں کے دوران لاکھوں روہنگیا افراد کو میانمار (جو جنوب مشرقی ایشیا کا ایک بدھ مت اکثریتی ملک ہے) چھوڑ کر فرار ہونے پر مجبور ہونا پڑا ہے۔ ان میں سے کئی لوگوں نے پڑوسی ملک بنگلہ دیش میں پناہ لی ہے۔ حالیہ فضائی حملوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ میانمار کے تنازع سے متاثرہ علاقوں میں عام شہریوں کو مسلسل خطرات کا سامنا ہے۔

 

Ads