Masarrat
Masarrat Urdu

"وندے ماترم" گیت نے ہندو مسلم برادری کے درمیان بڑا فرق پیدا کیا۔چنڈی گڑھ میں منعقدہ سیمینار میں مقررین کا اظہار خیال

Thumb

"وندے ماترم" گیت نے ہندو مسلم برادری کے درمیان بڑا فرق پیدا کیا۔ مقررین

چنڈی گڑھ، 26ستمبر (مسرت ڈاٹ کام) سینٹرل سری گرو سنگھ سبھا، آل انڈیا پیس مشن اور انڈین مسلمس فار سول رائٹس کی مشترکہ کوششوں سے سری گرو گرنتھ صاحب بھون، چنڈی گڑھ میں ’وندے ماترم‘ گیت کے حوالے سے ایک سنجیدہ فکری سیمینار منعقد کیا گیا۔ اس میں ملک کے مختلف حصوں سے آئے ہوئے دانشوروں، قانون دانوں، مذہبی اور سماجی رہنماؤں نے شرکت کی۔ پروگرام کی صدارت پٹنہ ہائی کورٹ کے سابق چیف جسٹس اقبال احمد انصاری نے کیا، جبکہ دھلی سے انڈین مسلمس فار سول رائٹس کے چئرمین اور سابق رکن پارلیمنٹ محمد ادیب بطور مہمان خصوصی شریک ہوئے۔

جاری ریلیز کے مطابق گرو سنگھ سبھا کے صدر پروفیسر شام سنگھ نے کہا کہ ’وندے ماترم‘ کو قومی ترانے کے برابر قانونی تحفظ فراہم کرنے سے اقلیتی برادریوں میں تشویش میں اضافہ ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان مختلف مذاہب اور برادریوں کا ملک ہے اور کسی ایک مذہبی روایت کو دوسری برادریوں پر مسلط نہیں کیا جانا چاہیے۔

مرکزی سری گرو سنگھ سبھا کے جنرل سکریٹری ڈاکٹر خوشحال سنگھ نے کہا کہ ملک میں اکثریت پسند سیاست کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کے باعث سکھوں اور مسلمانوں سمیت اقلیتوں میں عدم تحفظ کا احساس پیدا ہو رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آئین کی جانب سے دیے گئے مذہبی اور شہری حقوق کا تحفظ کیا جانا چاہیے۔

دہلی سے آئے انڈین مسلمس فار سول رائٹس کے چئرمین اور سابق راجیہ سبھا رکن محمد ادیب نے کہا کہ آزادی کےبعد مسلمانوں نے ہندوستان میں رہ کر ملک کے جمہوری اور سیکولر نظام میں اپنا کردار ادا کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’وندے ماترم‘ کی بعض سطروں میں دیوی دیوتاؤں کی پوجا سے متعلق حوالوں کے باعث مسلم برادری کو طویل عرصے سے اس کے حوالے سے مذہبی اعتراضات رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر یہ ملک سیکولر ہے تو سرکاری پروگرامز میں وندے ماترم گیت کیسے گایا جا سکتا ہے۔ محمد ادیب نے اس بات کی بھی پرزور مخالفت کی کہ اگر یہ ملک سیکولر ہے تو سرکاری پروگراموں میں صرف ایک مذہب کی خاص رسومات ادا کیوں کی جاتی ہیں۔

پٹنہ ہائی کورٹ کے سابق چیف جسٹس جسٹس اقبال انصاری نے کہا کہ بنکم چندر چٹو اپادھیائے کی تخلیق ’وندے ماترم‘ اور ناول ’آنند مٹھ‘ تاریخی طور پر تنازعات کا موضوع رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستانی آئین سیکولر ہے اور کسی شہری کو اس کے مذہبی عقیدے کے خلاف کوئی رسم ادا کرنے پر مجبور نہیں کیا جانا چاہیے۔

سکھ مفکر راجویندر سنگھ راہی نے ’وندے ماترم‘ اور ’آنند مٹھ‘ کے تاریخی پس منظر کے حوالے سے اپنے خیالات پیش کرتے ہوئے کہا کہ ان تخلیقات کے مسلم برادری کے تئیں رویے کے بارے میں مورخین میں طویل عرصے سے بحث جاری رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس معاملے کو تاریخی حقائق اور سماجی ہم آہنگی کے نقطۂ نظر سے سمجھنے کی ضرورت ہے۔

اس موقع پر ہردیپ سنگھ ڈبڈبا، سپریم کورٹ کے سینئر ایڈووکیٹ بھانو پرتاپ، آتم جیت سنگھ، ورندر ہڈا اور دیا سنگھ اور جسٹس رنجیت سنگھ رندھاوا سمیت دیگر مقررین نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ مقررین نے کہا کہ قومی علامتوں کا احترام کرتے ہوئے آئینی حقوق اور مذہبی آزادی کا بھی تحفظ ہونا چاہیے۔

اس موقع پر دی فریڈم پریس کے ریزیڈنٹ ایڈیٹر انظر الباری، سردار گرتیج سنگھ، سینئر صحافی جسپال سنگھ سدھو، ہمیر سنگھ، جماعت پنجاب کے امیر حلقہ نذیر محمد، ایڈووکیٹ پونم آریہ، ستویندر کور، راجندر سنگھ، اپکار سنگھ، کیپٹن گوردیپ سنگھ گھمن اور دیپک چنراٹھل، ڈاکٹر پروین حسین سمیت کئی اہم شخصیات موجود تھیں۔

 

Ads