Masarrat
Masarrat Urdu

ایس آئی آر کا فیصلہ متفقہ تھا، کابینہ سکریٹری کو لکھے گئے خط کا کسی پالیسی سے تعلق نہیں: الیکشن کمیشن کی وضاحت

Thumb

نئی دہلی، 26 ستمبر (مسرت ڈاٹ کام) الیکشن کمیشن نے اپنے فیصلوں اور اندرونی کام کاج کے حوالے سے گزشتہ چند دنوں سے جاری سیاسی تنازع کے درمیان پھر واضح کیا ہے کہ ریاستوں کی ووٹر لسٹوں کی خصوصی جامع نظرِ ثانی (ایس آئی آر) کے عمل کا مقصد ووٹر لسٹ کو درست کرنا ہے اور کابینہ سکریٹری کو بھیجا گیا خط کمیشن سے متعلق کسی پالیسی سے نہیں جڑا تھا۔

کمیشن نے یہ بھی کہا ہے کہ ایسے اہل شہری، جن کا نام ایس آئی آر کے دوران ووٹر لسٹ میں درج ہونے سے رہ گیا ہے، وہ مقررہ طریقہ کار اپنا کر نام شامل کرانے کے لیے درخواست دے سکتے ہیں۔

کمیشن کی ہفتے کے روز یہاں منعقدہ مکمل میٹنگ کے بعد جاری پریس ریلیز میں کہا گیا ہے کہ "کابینہ سکریٹری کو مخاطب کیا گیا خط کمیشن یا اس کے انفارمیشن ٹیکنالوجی کے شعبے سے متعلق کسی پالیسی معاملے سے نہیں جڑا تھا، بلکہ اس کا تعلق کمیشن میں ڈپیوٹیشن پر تعینات ایک افسر کے کام کاج سے تھا۔" کمیشن نے کہا، "متعلقہ افسر کی طرف سے جاری کردہ کام کی دوبارہ تقسیم کے احکامات کو دو الیکشن کمشنروں کی ہدایت کے بعد واقعی نافذ نہیں کیا گیا تھا۔"

ساتھ ہی، کمیشن نے واضح کیا کہ ڈپٹی الیکشن کمشنر سے انفارمیشن ٹیکنالوجی کے شعبے کی نگرانی کبھی واپس نہیں لی گئی تھی۔

آج کی میٹنگ میں چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے ساتھ الیکشن کمشنرز ایس ایس سندھو اور وویک جوشی شامل تھے۔

قابلِ ذکر ہے کہ ایک انگریزی روزنامے نے ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا تھا کہ ایس آئی آر کے تعلق سے الیکشن کمیشن میں اختلافات ہیں۔ اس پر کانگریس سمیت کئی اپوزیشن جماعتوں نے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف جارحانہ بیان بازی کی ہے اور ان کے استعفے کا مطالبہ کر رہی ہیں۔ کمیشن پہلے بھی واضح کر چکا ہے کہ اس کے تمام فیصلے اتفاقِ رائے سے لیے جاتے ہیں۔

ایس آئی آر کے عمل کے پر اٹھائے گئے دیگر سوالات پر کمیشن نے کہا ہے، "24 جون 2025 کو تمام ریاستوں اور مرکز کے زیرِ انتظام علاقوں میں ایس آئی آر کرانے کے لیے جاری کردہ حکم کمیشن کے ذریعے اتفاقِ رائے سے منظور کیا گیا تھا۔ ایس آئی آر کی شروعات بہار سے ہوئی اور بعد میں پشچمی بنگال نیز 30 دیگر ریاستوں اور مرکز کے زیرِ انتظام علاقوں تک اس کی توسیع کی گئی ۔"

کمیشن نے کہا ہے کہ 27 مئی 2026 کے اپنے حکم میں سپریم کورٹ نے ایس آئی آر کرانے کے کمیشن کے فیصلے کو قانون کے مطابق مانا تھا۔

کمیشن نے بتایا کہ 27 اکتوبر 2025 کو 12 ریاستوں اور مرکز کے زیرِ انتظام علاقوں کے لیے جاری ایس آئی آر پروگرام نیز 14 مئی 2026 کو دیگر 19 ریاستوں اور مرکز کے زیرِ انتظام علاقوں کے لیے جاری ایس آئی آر پروگرام کو بھی کمیشن کی متفقہ منظوری ملی تھی۔

کمیشن نے کہا ہے، "ووٹروں کی حتمی تعداد تبھی معلوم ہوگی، جب فیز-3 کی بقایا 12 ریاستوں میں لسٹوں کی حتمی اشاعت ہو جائے گی۔"

کمیشن نے گوا کی ایس آئی آر میں کچھ ووٹروں کے نام چھوٹنے کے سلسلے میں کی گئی کارروائی کے بارے میں کہا ہے کہ گوا کے چیف الیکٹورل آفیسر (سی ای او) نے متعلقہ بوتھ لیول افسران (بی ایل او) کو ایسے ووٹروں کے گھر گھر جا کر ان کے فارم جمع کرنے کی ہدایت دی تھی۔ ایسے 97 ووٹروں میں سے 81 نے لسٹ میں نام شامل کرانے کے لیے فارم 6 بھر بھی دیا ہے۔

کمیشن نے کہا ہے کہ "اس کے تازہ ترین اقدامات اہم ہیں، کیونکہ کمیشن مرحلہ وار طریقے سے ایس آئی آر کا عمل جاری رکھے ہوئے ہے۔ اس عمل میں ووٹر لسٹوں کی تصدیق اور انہیں اپ ڈیٹ کرنا شامل ہے اور دستاویزات، ووٹروں کو شامل کرنے نیز الیکشن افسران کی جانب سے اپنائے جانے والے طریقہ کار کو لے کر سیاسی بحث ہوتی رہی ہے۔"

کمیشن نے کہا ہے کہ اس کی جانب سے بار بار کہا گیا ہے کہ ایس آئی آر کے عمل کا مقصد درست ووٹر لسٹ کو یقینی بنانا ہے۔ کمیشن نے اس بات پر بھی زور دیا ہے کہ ایسے اہل شہری جن کا نام ووٹر لسٹ میں نہیں ہے، وہ مقررہ طریقہ کار کے ذریعے اپنا نام شامل کرانے کے لیے درخواست دے سکتے ہیں۔

ہفتے کے روز مکمل کمیشن کی منظوری کے ساتھ جاری ای سی آئی کی تازہ ترین پریس ریلیز میں گھر گھر مدد، آن لائن سماعت، کمزور طبقے کے ووٹروں کے لیے خصوصی کیمپ اور دعوے نیز اعتراضات دائر کرنے کے لیے اضافی وقت پر خصوصی زور دیا گیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی کمیشن نے اپنے ڈیجیٹل نظام کے جائزے اور اندرونی انتظامی طریقہ کار کو مضبوط کرنے کا بھی اعلان کیا ہے۔

کمیشن نے کہا ہے کہ اس کے باضابطہ ووٹر سروس پلیٹ فارم پر ووٹر رجسٹریشن اور انتخابات سے متعلق تفصیلات میں ترمیم کی سہولیات بھی دستیاب ہیں۔ اہل شہری ان خدمات کے ذریعے آن لائن درخواست دے سکتے ہیں۔

کمیشن نے آج کی میٹنگ میں دہلی اور مہاراشٹر کے چیف الیکٹورل افسران کی درخواست پر غور کر کے ان دونوں ریاستوں میں ایس آئی آر کے تحت دعوے اور اعتراضات کے لیے وقت بڑھانے کا فیصلہ بھی کیا ہے۔

Ads