سی جے پی کے قومی کنوینر ابھیجیت دیپکے نے سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ میں کہا کہ اگر گیانیش کمار کل تک استعفیٰ نہیں دیتے ہیں تو پارٹی ممبئی سے احتجاج شروع کرکے اسے ملک کے دیگر شہروں تک پھیلائے گی اور اس گاندھی جینتی پر جمہوریت کے تحفظ کا عزم کرے گی۔
یہ اعلان چیف الیکشن کمشنر کو استعفیٰ دینے کے لیے پارٹی کی جانب سے دی گئی 48 گھنٹے کی مدت ختم ہونے کے بعد کیا گیا ہے۔ سی جے پی نے مطالبات تسلیم نہ کیے جانے کی صورت میں ملک گیر احتجاج کے ساتھ دہلی میں غیر معینہ مدت کے دھرنے کی بھی وارننگ دی تھی۔
’الیکشن کمیشن ٹھیک کرو‘ مہم شروع کرتے ہوئے پارٹی کے کنوینر ابھیجیت دیپکے اور شریک کنوینروں سورَو داس اور آشوتوش رانکا نے الزام لگایا کہ ایس آئی آر کے باعث 30 ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کی ابتدائی ووٹر فہرستوں سے 13 کروڑ سے زیادہ جائز نام خارج ہوگئے ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ الیکشن کمیشن ثابت کرے کہ ووٹر فہرست سے خارج کیا گیا ہر نام قانونی، شفاف اور قابلِ نظرثانی طریقۂ کار کے تحت ہٹایا گیا ہے۔
سی جے پی نے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے فوری استعفے کے ساتھ ایس آئی آر کے دوران کئے گئے فیصلوں کی آزادانہ جانچ کا بھی مطالبہ کیا ہے۔ پارٹی نے نام حذف کرنے کے عمل پر فوری روک لگانے، تصدیق مکمل ہونے تک جنوری 2025 کی ووٹر فہرست بحال کرنے اور تمام متعلقہ ریکارڈ سپریم کورٹ یا کسی آزاد عدالتی کمیٹی کے حوالے کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
تنظیم نے چیف الیکشن کمشنر اور دیگر الیکشن کمشنروں کی تقرری سے متعلق 2023 کے قانون کو منسوخ کرکے ایک نیا شفاف نظام وضع کرنے کا بھی مطالبہ کیا ہے، جس میں سول سوسائٹی کی وسیع شرکت یقینی بنائی جائے۔
