ایرانی خبر رساں اداروں فارس اور تسنیم کی جانب سے جاری ویڈیو میں رحیم صفوی نے دعویٰ کیا کہ ایران اور عمان آبنائے ہرمز کے انتظام کے لیے ایک طریقہ کار پر متفق ہوگئے تھے، تاہم امریکہ نے اس میں رکاوٹ پیدا کردی۔
انہوں نے کہا کہ ایران کی حکمت عملی خلیج کو بحیرہ احمر سے اور آبنائے ہرمز کو باب المندب سے جوڑنے پر مبنی ہے، جس سے ان کے بقول جنگ کی صورتحال میں نمایاں تبدیلی آسکتی ہے۔
ایرانی عسکری مشیر نے حوثی ملیشیا کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس کے اپنے اہداف اور حکمت عملی ہے اور اس نے ہتھیاروں کی تیاری میں نمایاں پیش رفت کی ہے۔ انہوں نے اس سے قبل خبردار کیا تھا کہ امریکہ یا اسرائیل کی جانب سے ایران پر دوبارہ حملے کی صورت میں جنگ بحر ہند اور اس سے آگے تک پھیل سکتی ہے۔
آبنائے ہرمز خلیج فارس اور خلیج عمان کو ملانے والی اہم آبی گزرگاہ ہے اور عالمی تیل و گیس کی ترسیل کے لیے انتہائی اہم سمجھی جاتی ہے۔ ایران کی جانب سے اس راستے پر عائد پابندیوں کے باعث عالمی توانائی کی ترسیل اور قیمتوں پر دباؤ بڑھا ہے۔
