Masarrat
Masarrat Urdu

راہل نے چیف الیکشن کمشنر کے استعفے کا مطالبہ کیا، کہا- 'ووٹ چوری' سے جمہوریت اور شہری حقوق پر حملہ

Thumb

نئی دہلی، 24 ستمبر (مسرت ڈاٹ کام) لوک سبھا میں اپوزیشن کے رہنما راہل گاندھی نے انتخابی عمل کے تعلق سے جمعرات کے روز مرکزی حکومت نیز الیکشن کمیشن پر سنگین الزامات عائد کیئے اور چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے فوری استعفے کا مطالبہ کیا۔

مسٹر گاندھی نے آج یہاں پریس کانفرنس میں کہا کہ ووٹ کی حفاظت کرنا الیکشن کمیشن کی ذمہ داری ہے، لیکن ووٹ چوری سے جمہوریت اور شہریوں کے حقوق کی پامالی ہو رہی ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ ہریانہ، مہاراشٹر، اتر پردیش اور مدھیہ پردیش سمیت مختلف انتخابات میں ہیرا پھیری کی گئی ہے۔ انہوں نے کہا، "میں 50 سال سے ہندوستان کی سیاست دیکھ رہا ہوں اور اقتدار مخالف لہر ہندوستانی سیاست کی سچائی ہے۔ آج ووٹ کو ختم کیا جا رہا ہے۔ اسمبلی اور لوک سبھا انتخابات میں دھاندلی کی گئی اور ووٹ چوری کے ذریعے منتخب ہوئے رکن پارلیمنٹ (ایم پی) قانون بنا رہے ہیں۔"

کانگریس رہنما نے کہا کہ آج دو الیکشن کمشنروں نے سوال اٹھائے ہیں اور مسٹر کمار کے طریقہ کار پر سوال کھڑے ہوئے ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ چیف الیکشن کمشنر کی تقرری وزیر اعظم اور وزیر داخلہ کی پسند سے ہوئی ہے۔ انہوں نے 2023 میں الیکشن کمیشن کی تقرری سے متعلق قانون کا بھی ذکر کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے سلیکشن کمیٹی میں اس کی مخالفت کی تھی۔

انہوں نے الزام لگایا کہ وزیر اعظم نریندر مودی اور مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ چیف الیکشن کمشنر کے "محافظ" ہیں۔ انہوں نے مسٹر شاہ کی ایک ویڈیو بھی دکھائی اور کہا کہ بی جے پی طویل عرصے سے انتخابات میں اپنی جیت کا دعویٰ کرتی رہی ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ انتخابی نظام میں موجودہ صورت حال کے لیے مسٹر کمار ذمہ دار ہیں اور ان کا مطالبہ ہے کہ وہ فوری طور پر استعفیٰ دیں۔ انہوں نے کہا، "ہم ہندوستان میں جمہوریت کو ختم نہیں ہونے دیں گے۔ آج نہیں تو کل ان لوگوں کو سزا ملے گی۔"

 

Ads