چیف جسٹس سوریہ کانت کی سربراہی والی جسٹس جوئے مالیا باگچی اور جسٹس وی موہنا کی بنچ کے سامنے یہ سماعت ہوئی۔ کرناٹک موسیقی کے مشہور گلوکار ٹی ایم کرشنا کی اس عرضی میں 2026 کی اس ترمیم کو چیلنج کیا گیا ہے، جس کے تحت 'وندے ماترم' کے گانے کو جان بوجھ کر روکنے یا اس کے پروگرام میں رکاوٹ ڈالنے پر تین سال تک کی قید کی دفعہ شامل کی گئی ہے۔
عرضی گزار کی جانب سے پیش سینئر ایڈوکیٹ مرلیدھر نے قانون پر سوال اٹھاتے ہوئے دلیل دی کہ یہ ترمیم "قومی گیت" کے گانے کو روکنے پر سزا کی دفعہ فراہم کرتی ہے، جبکہ قانون میں قومی گیت کی تعریف ہی نہیں کی گئی ہے۔ اس پر بنچ نے تبصرہ کیا، "اگر کوئی تاریخ پڑھنے کی زحمت کرے، تو ہر کوئی جانتا ہے کہ قومی گیت کیا ہے۔" اس پر مسٹر مرلیدھر نے کہا کہ "تاریخ آئینی فیصلہ سازی کے عمل کو پابند نہیں کرتی" اور ایسے مسائل کو عوامی رائے کے ذریعے پروان چڑھنا چاہیے۔
پارلیمنٹ کے قانون سازی کے عمل کا دفاع کرتے ہوئے مسٹر مہتا نے کہا کہ فیصلے پارلیمنٹ کے ذریعے آئین کے مطابق لیے جاتے ہیں، نہ کہ اس طریقے سے جیسے "نکسلائٹ" فیصلہ لیتے ہیں۔ مسٹر مرلیدھر نے اس لفظ کے استعمال پر سخت اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ ایسا بیان کسی لاء آفیسر کو زیب نہیں دیتا۔ اس پر بنچ نے مداخلت کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس لفظ کو ریکارڈ پر نہیں لے گی اور صرف آئینی معاملے تک ہی محدود رہے گی۔
مسٹر کرشنا کی اس عرضی میں قومی وقار کی توہین کی روک تھام کے قانون کی ترمیم شدہ دفعہ تین کے ساتھ ساتھ مرکزی حکومت کی ان ہدایات کو بھی چیلنج کیا گیا ہے، جن کے تحت مخصوص سرکاری، رسمی اور ثقافتی موقعوں پر وندے ماترم کے تمام چھ بند کا گانا لازمی کیا گیا ہے۔ عرضی میں دلیل دی گئی ہے کہ یہ ترمیم شہریوں کو مجرمانہ سزا کے دائرے میں لاتی ہے اور انہیں ان آخری چاربند کو گانے کے لیے مجبور کرتی ہے جن میں مذہبی حوالے شامل ہیں۔
آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین کے صدر اور حیدرآباد کے رکنِ پارلیمنٹ اسد الدین اویسی نے منگل کے روز عدالت کی اس بات کا خیر مقدم کیا کہ کسی شخص کو صرف اپنے ضمیر یا مذہب کی بنیاد پر وندے ماترم گانے سے منع کرنے پر مجرمانہ سزا کا سامنا نہیں کرنا چاہیے۔ مسٹر اویسی نے سوشل میڈیا پر جاری ایک بیان میں کہا کہ اختلافِ رائے کی آزادی سوچنے، بولنے اور اظہار کی آزادی کا ایک لازمی حصہ ہے۔
