مسٹر گاندھی نے اتوار کے روز سوشل میڈیا 'ایکس' پر لکھا کہ کل اندور میں ایک طالبہ نے ان سے پوچھا تھا کہ حکومت کے پاس دیا جلانے کے لیے پیسہ ہے، تو ان کے ہاسٹل کے لیے کیوں نہیں۔ انہوں نے کہا کہ گاؤں سے پڑھنے شہر آنے والی طالبات کو ہاسٹل نہ ملنے کی وجہ سے پی جی میں رہنا پڑتا ہے اور محفوظ رہنے میں لاکھوں روپے خرچ ہو جاتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہر مہینے کرائے کی فکر اور بے گھر ہونے کے ڈر کے درمیان طالبات کو پڑھائی کرنی پڑتی ہے اور کئی لڑکیاں رہنے کی جگہ نہ ہونے کی وجہ سے بیچ میں ہی پڑھائی چھوڑ دیتی ہیں۔ انہوں نے رہائشی الاؤنس کو لے کر بھی سوال اٹھائے اور کہا کہ یہ مہنگائی کے ساتھ نہیں بڑھتا اور بدعنوانی کی نذر ہو جاتا ہے۔
