وزارت خارجہ کے سرکاری ترجمان رندھیر جیسوال نے بدھ کو کہا کہ پاکستان اور چین کے درمیان کوئی سرحد نہیں ہے اور اس نام نہاد مشترکہ کمیشن کی کوئی قانونی بنیاد نہیں ہے۔
انہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر اور لداخ کے پورے مرکز کے زیر انتظام علاقے ہندوستان کے اٹوٹ اور ناقابل تقسیم حصے ہیں۔ ترجمان کے مطابق پاکستان کو ہندوستان کے غیر قانونی اور زبردستی قبضے والے علاقوں کے بارے میں کسی طرح کا انتظام کرنے کا کوئی حق نہیں ہے۔
ہندوستان نے 1963 کے نام نہاد 'چین-پاکستان سرحدی سمجھوتے' کو بھی کبھی تسلیم نہیں کیا ہے۔ ہندوستان کا کہنا ہے کہ یہ سمجھوتہ غیر قانونی اور باطل ہے۔
ہندوستان نے کہا کہ وہ ان قبضے والے علاقوں کی صورت حال بدلنے یا غیر قانونی قبضے کو درست ٹھہرانے کی کسی بھی کوشش کی مخالفت کرتا ہے۔ ہندوستان کے مطابق، ہندوستانی علاقوں کو لے کر چین اور پاکستان کے درمیان کسی بھی طرح کا نام نہاد سرحدی تعاون قابل قبول نہیں ہے اور اس سے ان علاقوں پر ہندوستان کی خودمختاری پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔
ہندوستان نے پاکستان سے کہا ہے کہ وہ ایسے دکھاوے کے بجائے ہندوستان کے غیر قانونی اور زبردستی قبضے والے علاقوں کو فوری طور پر خالی کرے۔
