Masarrat
Masarrat Urdu

ہندوستان کی خارجہ پالیسی کی بنیاد ہی اس کی تزویراتی خودمختاری ہے: جے شنکر

Thumb

نئی دہلی، 15 ستمبر (مسرت ڈات کام) وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے کہا ہے کہ تیزی سے بدلتی اور غیر مستحکم ہوتی دنیا میں ہندوستان اپنی تزویراتی خودمختاری برقرار رکھتے ہوئے خطرات کم کرنے، سپلائی چین میں تنوع پیدا کرنے اور خود انحصاری بڑھانے پر زور دے گا۔

ڈاکٹر جے شنکر نے منگل کو انڈین کونسل آف ورلڈ افیئرز کے ایک پروگرام میں کہا کہ ہندوستان کی تیز رفتار اقتصادی ترقی کے باعث دنیا میں اس کا اثر و رسوخ اور ذمہ داریاں دونوں بڑھی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان کی خارجہ پالیسی میں امن، ترقی، کثیر قطبیت اور گلوبل ساؤتھ اہم حیثیت رکھتے رہیں گے اور 2047 تک ترقی یافتہ ہندوستان کی خارجہ پالیسی کے مختلف پہلوؤں پر ابھی سے غور کرنا ضروری ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہندوستانی انسانی وسائل اور دنیا میں ہندوستانی صلاحیتوں کے بڑھتے ہوئے سفر و نقل و حرکت کے باعث خارجہ پالیسی زیادہ عوام مرکوز ہو گئی ہے۔ قونصلر خدمات، برادری کی فلاح و بہبود، فوری ردعمل اور لوگوں کی آمدورفت سے متعلق معاہدے اب زیادہ اہمیت اختیار کر گئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ڈیجیٹل اور سوشل میڈیا کے بعد اب سفارت کاری مصنوعی ذہانت کے دور میں داخل ہو رہی ہے، جس سے مواصلات اور پالیسی سازی مزید پیچیدہ ہو جائیں گے۔ انہوں نے عالمی سطح پر توانائی، مالیات، ٹیکنالوجی، رابطہ کاری، محصولات اور سپلائی چین میں بڑھتے ہوئے خطرات کا بھی ذکر کیا۔

ڈاکٹر جے شنکر نے کہا کہ ہندوستان ان چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے خطرات کم کرنے، منڈیوں اور سپلائی چین میں تنوع پیدا کرنے اور خود انحصاری بڑھانے کے لیے کام کر رہا ہے۔ انہوں نے ’میک اِن انڈیا‘ کو تزویراتی خودمختاری کے لیے اہم قرار دیتے ہوئے قابل اعتماد شراکت داروں اور سپلائی کے نئے راستوں کو مضبوط بنانے پر زور دیا۔

انہوں نے کہا کہ ہندوستان نے گزشتہ دہائی کے دوران ’وسودھیو کٹمبکم‘، ’نیبرہڈ فرسٹ‘، ’ایکٹ ایسٹ‘، ’ویکسین میتری‘، ’انڈو پیسیفک‘، ’ساگر‘، ’گلوبل ساؤتھ‘ اور ’ریفارمڈ ملٹی لیٹرل ازم‘ جیسے نظریات اور اقدامات کو آگے بڑھایا ہے۔ انہوں نے انٹرنیشنل سولر الائنس، ڈیزاسٹر ریزیلینٹ انفراسٹرکچر کے لیے اتحاد اور گلوبل بایوفیولز الائنس جیسی پہلوں کا بھی ذکر کیا۔

 

Ads