ملکارجن کھرگے نے منگل کے روز سوشل میڈیا پر لکھا کہ 'نو فیس آن یوپی آئی' کو بدل کر اب 'دو ہزار روپے تک کے یوپی آئی لین دین پر نو فیس' کر دیا گیا ہے۔ آسمان چھوتی مہنگائی سے عام آدمی کی جیب پہلے ہی خالی ہے اور تھوک مہنگائی 10 فیصد کے قریب ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ بی جے پی حکومت عوام پر 'ڈیجیٹل پیمنٹس ٹیکس' لگا کر ان کی بچی کھچی بچت کو بھی تباہ کرنے کا منصوبہ بنا رہی ہے۔
کانگریس صدر نے کہا کہ متعدد خبروں کے مطابق پانچ ہزار روپے کے لین دین پر 25 روپے اور 10 ہزار روپے پر 50 روپے تک کی ممکنہ وصولی کی جائے گی۔ انہوں نے حکومت سے سوال کیا ہے کہ کیا یہ خبریں درست ہیں؟
راہل گاندھی نے کہا کہ اب دو ہزار روپے سے اوپر کے مرچنٹ یوپی آئی لین دین پر ایم ڈی آر لگایا جا سکتا ہے۔ ان لین دین کی تعداد بھلے ہی صرف پانچ فیصد ہو لیکن یوپی آئی کے کل لین دین کی مالیت کا تقریباً 65 فیصد انہی پر مشتمل ہے۔
انہوں نے کہا، "حکومت کہتی ہے کہ گاہک سے کوئی چارج نہیں لیا جائے گا لیکن دکاندار پر لگنے والی فیس آخر آئے گی کہاں سے—قیمتوں میں شامل ہو کر گاہک کی جیب سے۔ امریکی ادائیگی کمپنیاں طویل عرصے سے ہندوستان کی زیرو-ایم ڈی آر پالیسی کی مخالفت کرتی رہی ہیں اور اب مودی حکومت نے ٹھیک اسی سمت میں پالیسی بدلنے کا راستہ کھول دیا ہے۔"
