امریکہ کے ایک غیر منافع بخش پالیسی تھنک ٹینک 'فیڈریشن آف امریکن سائنٹسٹس' (ایف اے ایس) کی ویب سائٹ پر شائع ہونے والی ایک رپورٹ میں یہ اندازے اوپن سورس، سرکاری ڈیٹا اور کمرشل سیٹلائٹ تصاویر کے تجزیے سے لگائے گئے ہیں۔ ایف اے ایس کے نیوکلیئر انفارمیشن پروجیکٹ کے ڈائریکٹر ہینس کرسٹینسن کی 'انڈیاز نیوکلیئر ویپنز – 2026' عنوان والی رپورٹ کے مطابق، "ایٹمی ہتھیار لے جانے میں اہل فورس اسٹرکچر اور حکمت عملی کے بارے میں دستیاب عوامی معلومات کی بنیاد پر، ہمارا اندازہ ہے کہ ہندوستان نے تقریباً 190 ایٹمی وار ہیڈ تیار کیے ہوں گے۔"
اس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ہندوستان اپنے ایٹمی ہتھیاروں کے ذخیرے کو جدید بنانے اور اپنے نئے 'نیوکلیئر ٹرائڈ' (زمین، ہوا اور سمندر سے ایٹمی حملہ کرنے کی صلاحیت) کو فعال کرنے کا کام جاری رکھے ہوئے ہے۔ اندازہ ہے کہ ہندوستان ابھی نو مختلف ایٹمی صلاحیت کے حامل سسٹمز کا استعمال کر رہا ہے: دو طرح کے طیارے، زمین سے مار کرنے والی چھ بیلسٹک میزائلیں اور سمندر سے مار کرنے والی ایک بیلسٹک میزائل۔ کم از کم دو اور سسٹمز ابھی بن رہے ہیں اور جلد ہی مکمل ہونے والے ہیں؛ انہیں ایک یا کچھ سال کے اندر فوج میں شامل کر لیا جائے گا۔
مصنف کا اندازہ ہے کہ آپریشنل فورس 160 سے زیادہ ایٹمی وار ہیڈ تعینات کر سکتی ہے، اور جو میزائلیں ابھی بن رہی ہیں، ان کے لیے مزید وار ہیڈ بنائے گئے ہیں، جس سے کل وار ہیڈز کی تعداد 190 تک پہنچ سکتی ہے۔
قابل ذکر ہے کہ حکومتِ ہند اس طرح کا کوئی ڈیٹا شائع نہیں کرتی ہے اور اس کی واضح پالیسی ہے کہ وہ ایٹمی ہتھیار کا استعمال پہلے نہیں کرے گی۔ ہندوستان کے دو پڑوسی ممالک پاکستان اور چین کا شمار بھی ایٹمی صلاحیت کے حامل ممالک میں ہوتا ہے۔
رپورٹ کے مطابق ہندوستان ان چند ممالک میں شامل ہے جو انتہائی افزودہ یورینیم اور ہتھیاروں کے گریڈ کا پلوٹونیم دونوں تیار کرتے ہیں۔ ہتھیاروں کے گریڈ کے پلوٹونیم کا اہم ذریعہ ممبئی میں واقع بھابھا ایٹمی تحقیقاتی مرکز میں 'دھرو' ری ایکٹر رہا ہے۔ اس کے علاوہ، کلپکم میں واقع پروٹو ٹائپ فاسٹ بریڈر ری ایکٹر کے فعال ہونے سے ہندوستان کے پاس ایٹمی ہتھیاروں کے لیے پلوٹونیم کی دستیابی میں نمایاں اضافہ ہو سکتا ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے، "ہمارا اندازہ ہے کہ ہندوستان نے 140 سے 225 ایٹمی ہتھیاروں (وار ہیڈز) کے لیے کافی ملٹری پلوٹونیم تیار کیا ہوگا اور 190 تک ہتھیار تیار کر لیے ہوں گے۔ کئی اور ہتھیاروں کے سسٹمز تیار کیے جا رہے ہیں، اس لیے ملک کے ایٹمی ہتھیاروں کے ذخیرے میں مزید اضافہ ہونے کا امکان ہے۔"
دوسری رپورٹ کے مطابق پاکستان کے پاس 170 اور چین کے پاس 620 ایٹمی وار ہیڈ ہونے کا اندازہ ہے۔
