الوداعی تقریب میں ہندوستانی دستے کے کھلاڑی، کوچز، معاون عملہ، معزز شخصیات اور مقابلوں سے وابستہ شراکت دار شریک ہوئے۔ اس دوران کھلاڑیوں نے آئندہ ایشیائی کھیلوں کے لیے اپنی تیاریوں اور ملک کے لیے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرنے کے عزم کا اظہار کیا۔
تقریب میں نوجوانوں کے امور اور کھیلوں کے وزیر ڈاکٹر منسکھ مانڈویہ، ہندوستانی اولمپک ایسوسی ایشن کی صدر ڈاکٹر پی ٹی اوشا، ہندوستانی دستے کے کھلاڑی، کوچز، معاون عملہ اور شراکت دار موجود تھے۔ اس موقع پر ڈاکٹر مانڈویہ نے کہا، ''ہمارے ملک میں صلاحیتوں کی کوئی کمی نہیں ہے۔ ہم دن بہ دن اور سال بہ سال آگے بڑھ رہے ہیں۔ ہمیں دباؤ کو کارکردگی میں، حریف کو موقع میں اور موقع کو کامیابی میں تبدیل کرنا ہوگا۔ مجھے پورا یقین ہے کہ ہمارا دستہ ایشیائی کھیلوں میں اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کرے گا اور ملک کا وقار بلند کرے گا۔''
انہوں نے ہندوستانی کھلاڑیوں پر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں صلاحیتوں کی کوئی کمی نہیں اور ہندوستانی کھیل مسلسل ترقی کررہا ہے۔ انہوں نے کھلاڑیوں سے بڑے پلیٹ فارم کے دباؤ کو اپنی طاقت میں تبدیل کرکے بہترین کارکردگی پیش کرنے کی اپیل کی۔
ہندوستانی اولمپک ایسوسی ایشن کی صدر ڈاکٹر پی ٹی اوشا نے کھلاڑیوں کا حوصلہ بڑھاتے ہوئے کہا، ''اس موقع سے مرعوب نہ ہوں بلکہ ایسی کارکردگی دکھائیں کہ یہ موقع آپ کو یاد رکھے۔ خود کو دیکھیں اور یاد کریں کہ آپ کتنی دور تک پہنچے ہیں۔ آپ نے ایشیا کے بہترین کھلاڑیوں کے درمیان اپنی جگہ بنائی ہے۔''
انہوں نے کہا، ''توقعات کا بوجھ اپنے ساتھ نہ لے جائیں بلکہ انہیں اپنی طاقت بنائیں۔ میدان میں اتریں، مقابلے سے لطف اٹھائیں اور اپنی پوری صلاحیت جھونک دیں۔ خود اعتمادی، حوصلے، عاجزی اور اس یقین کے ساتھ آگے بڑھیں کہ آپ ایشیا کے کسی بھی کھلاڑی کا مقابلہ کرسکتے ہیں۔''
الوداعی تقریب میں کھلاڑیوں کے تجربات اور تیاریوں کو سامنے لانے کے لیے ایک خصوصی پینل مذاکرے کا بھی اہتمام کیا گیا۔ اس میں اولمپک تمغہ جیتنے والے سواپنل کُسالے، دولت مشترکہ کھیلوں کی طلائی تمغہ فاتح اسمیتا ڈے، دولت مشترکہ کھیلوں کی تمغہ جیتنے والی اور ویٹ لفٹر گیانیشوری یادو اور ہندوستانی کبڈی اسٹار پون سہراوت نے حصہ لیا۔ پینل مذاکرے کے دوران کھلاڑیوں نے ایشیائی کھیلوں کے چیلنج، بڑے بین الاقوامی پلیٹ فارم پر کارکردگی کے دباؤ اور تمغہ جیتنے کے لیے درکار ذہنی مضبوطی پر اپنے خیالات کا اظہار کیا۔
ایشیائی کھیلوں میں شرکت کے حوالے سے جوڈو اسٹار اسمیتا نے کہا، ''ایشیائی کھیل بہت مشکل ہوتے ہیں۔ جوڈو کی ابتدا جاپان سے ہوئی ہے اور میری وزن کی کیٹیگری میں جوڈو کے کئی بڑے کھلاڑی موجود ہیں۔ میری کیٹیگری میں عالمی درجہ بندی میں ساتویں، آٹھویں اور 14ویں مقام پر موجود کھلاڑی بھی ہیں۔'' انہوں نے کہا، ''اس تمغے کو جیتنے کے لیے مجھے پہلے سے کہیں زیادہ سخت تیاری کرنی ہوگی اور ان میں سے ہر ایک کو شکست دینے کے لیے پوری طرح تیار رہنا ہوگا۔''
ایشیائی کھیل 2026 کا انعقاد 19 ستمبر سے 4 اکتوبر تک جاپان کے آئیچی-ناگویا میں ہوگا۔ ان کھیلوں میں ہندوستانی کھلاڑی مختلف کھیلوں میں حصہ لیں گے اور ایشیا کی مضبوط کھیلوں کی طاقتوں کے کھلاڑیوں کو چیلنج پیش کریں گے۔
ہندوستان کے لیے یہ ایشیائی کھیل اس لیے بھی اہم ہیں کہ ملک نے 2023 میں ہانگژو میں منعقدہ ایشیائی کھیلوں میں اب تک کی اپنی بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے مجموعی طور پر 107 تمغے جیتے تھے۔ ہندوستانی کھلاڑیوں نے ان کھیلوں میں شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ملک کو تمغوں کی فہرست میں مضبوط مقام دلایا تھا۔
2023 کی تاریخی کارکردگی کو آگے بڑھانے کی امید کے ساتھ ہندوستانی اولمپک ایسوسی ایشن اور نوجوانوں کے امور و کھیلوں کی وزارت نے اس بار ہندوستانی دستے کی تیاریوں پر اعتماد ظاہر کیا ہے۔ دونوں اداروں کو امید ہے کہ ہندوستانی کھلاڑی آئیچی-ناگویا میں اپنی کارکردگی سے ملک کو فخر کا موقع دیں گے اور گزشتہ ایشیائی کھیلوں کی تمغہ کامیابیوں کو مزید آگے بڑھائیں گے۔
ہندوستانی کھلاڑی اب ایشیائی کھیلوں کے لیے آخری مرحلے کی تیاریوں کے ساتھ جاپان روانہ ہونے کی تیاری کر رہے ہیں۔ ملک کو امید ہے کہ ہندوستانی دستہ خود اعتمادی، عزم اور اپنی پوری صلاحیت کے ساتھ مقابلے میں اترے گا اور مقابلوں کے اختتام پر فخر کے ساتھ وطن واپس لوٹے گا۔
