Masarrat
Masarrat Urdu

ستیہ نکیتن عمارت انہدام کے مقام کا جماعت اسلامی ہند نے دورہ کیا

Thumb

نئی دہلی، 8 ستمبر (مسرت ڈاٹ کام) جماعت اسلامی ہند کے نائب امیر پروفیسر سلیم انجینئر نے دہلی کے ستیہ نکیتن میں طلبہ کے ہاسٹل کی پانچ منزلہ عمارت کے انہدام پر اپنے گہرے رنج و غم کا اظہار کیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق اس حادثے میں سات طلبہ جاں بحق اور متعدد دیگر زخمی ہوئے ہیں۔

انہوں نے جاں بحق ہونے والے طلبہ کے اہل خانہ سے دلی تعزیت کا اظہار کیا اور اس سانحے سے متاثرہ طلبہ اور متعلقین کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ اس واقعے نے ایک بار پھر طلبہ کی رہائش گاہوں کی حالت زار کو اجاگر کر دیا ہے ۔انہوں نے کہا کہ اس المناک حادثے نے اس ضرورت کو ثابت کر دیا ہے کہ تعلیم کے لیے دہلی آنے والے نوجوانوں کو محفوظ اور مناسب رہائش گاہیں فراہم کی جائیں۔

جماعت اسلامی ہند کے ایک وفد نے جائے حادثہ کا دورہ کیا اور وہاں موجود لوگوں سے ملاقاتیں کرکے زمینی صورت حال کو سمجھنے کی کوشش کی۔ وفد میں جماعت اسلامی ہند کے نائب امیر پروفیسر سلیم انجینئر، قومی سکریٹری مولانا شفیع مدنی، آئی۔ کریم اللہ، عتیق الرحمن اور سلمان احمد شامل تھے۔

میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے پروفیسر سلیم انجینئر نے کہا کہ ہم نے اس دورے کے دوران جو کچھ دیکھا اور جو معلومات حاصل کیں وہ انتہائی تشویش ناک ہیں۔ اس سانحے کو محض ایک عمارت کے منہدم ہونے کا واقعہ قرار دے کر نظرانداز نہیں کیا جاسکتا بلکہ اس حادثے کے ذمہ داران کی جواب دہی طے کی جانی چاہئے ۔انہوں نے کہا کہ حادثے میں جن لوگوں نے اپنی جانیں گنوائیں ان کے اہل خانہ کو مناسب معاوضہ دیا جانا چاہیے ، اس حادثے کی شفاف تحقیقات ہونی چاہئے اور جہاں بھی غفلت، ضابطوں کی خلاف ورزی یا ناکامی ثابت ہو وہاں جوابدہی طے کی جانی چاہیے۔

یو این آئی۔ م س۔ م الف

پروفیسر سلیم انجینئر نے کہا کہ یہ سانحہ دہلی یونیورسٹی اور اس کے آس پاس رہنے والے طلبہ کے لیے ایک بڑے بحران کی نشاندہی کرتا ہے۔ جب کالجوں میں ہاسٹل کی سہولتیں انتہائی ناکافی ہوں تو دہلی میں باہر سے آنے والے ہزاروں طلبہ پیئنگ گیسٹ رہائش گاہوں اور کرائے کے مکانات پر انحصار کرنے پر مجبور ہوجاتے ہیں۔ ایسی رہائش گاہوں کی بڑھتی ہوئی ضرورت نے اس طرح کے سنگین حالات پیدا کر دئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ حکومت اور متعلقہ حکام کو فوری طور پر طلبہ کے لیے مناسب اور سستے ہاسٹل کی سہولتیں فراہم کرنے کے انتظامات کرنے چاہیے۔ اس کے ساتھ ساتھ ستیہ نکیتن اور اس جیسے دوسرے ہاسٹلوں اور پی جی عمارتوں کی جانچ ، آڈٹ اور حفاظتی جائزہ بلا تاخیر کرایا جانا چاہیے۔ رہائش کی بڑھتی ہوئی ضرورت کو پورا کرنے کے نام پر حفاظتی معیار، ایمرجینسی اکزٹ ، عمارتوں کی منظوری اور دیگر ضروری حفاظتی اقدامات پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جانا چاہئے۔

 

انہوں نے مزید کہا کہ ہم اس سانحے کے خلاف احتجاج کرنے والے طلبہ اور دیگر افراد کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرتے ہیں اور ان کے جائز خدشات اور مطالبات کی حمایت کرتے ہیں۔طلبہ کے مطالبات کو نظرانداز کرنے کے بجائے ان کو سنجیدگی سے سنا اور حل کیا جانا چاہیے۔ ہم حکومت اور متعلقہ حکام سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ احتجاج کرنے والے طلبہ سے بات چیت کریں، ان کے خدشات کو دور کریں اور ٹھوس اقدامات کریں۔ صرف ضابطہ کی ناکامیوں، بنیادی سہولتوں کی کمی یا تجارتی مفادات کی وجہ سے طلبہ کی زندگیوں کو داؤ پر نہیں لگایا جاسکتا۔ اس سانحے کی جواب دہی کے ساتھ ساتھ مؤثر اقدامات بھی ضروری ہیں تاکہ مستقبل میں اس طرح کے المناک حادثے مزید نوجوانوں کی جان نہ لیں۔

 

ستیہ نکیتن عمارت انہدام کے مقام کا جماعت اسلامی ہند نے کیا دورہ

 

معاوضہ اور طلبہ کی رہائش گاہوں کی حفاظت کو یقینی بنانے کا کیا مطالبہ

 

نئی دہلی: جماعت اسلامی ہند کے نائب امیر پروفیسر سلیم انجینئر نے دہلی کے ستیہ نکیتن میں طلبہ کے ہاسٹل کی پانچ منزلہ عمارت کے انہدام پر اپنے گہرے رنج و غم کا اظہار کیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق اس حادثے میں سات طلبہ جاں بحق اور متعدد دیگر زخمی ہوئے ہیں۔ انہوں نے جاں بحق ہونے والے طلبہ کے اہل خانہ سے دلی تعزیت کا اظہار کیا اور اس سانحے سے متاثرہ طلبہ اور متعلقین کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ اس واقعے نے ایک بار پھر طلبہ کی رہائش گاہوں کی حالت زار کو اجاگر کر دیا ہے ۔انہوں نے کہا کہ اس المناک حادثے نے اس ضرورت کو ثابت کر دیا ہے کہ تعلیم کے لیے دہلی آنے والے نوجوانوں کو محفوظ اور مناسب رہائش گاہیں فراہم کی جائیں۔

 

جماعت اسلامی ہند کے ایک وفد نے جائے حادثہ کا دورہ کیا اور وہاں موجود لوگوں سے ملاقاتیں کرکے زمینی صورت حال کو سمجھنے کی کوشش کی۔ وفد میں جماعت اسلامی ہند کے نائب امیر پروفیسر سلیم انجینئر، قومی سکریٹری مولانا شفیع مدنی، آئی۔ کریم اللہ، عتیق الرحمن اور سلمان احمد شامل تھے۔

 

میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے پروفیسر سلیم انجینئر نے کہا کہ ہم نے اس دورے کے دوران جو کچھ دیکھا اور جو معلومات حاصل کیں وہ انتہائی تشویش ناک ہیں۔ اس سانحے کو محض ایک عمارت کے منہدم ہونے کا واقعہ قرار دے کر نظرانداز نہیں کیا جاسکتا بلکہ اس حادثے کے ذمہ داران کی جواب دہی طے کی جانی چاہئے ۔انہوں نے کہا کہ حادثے میں جن لوگوں نے اپنی جانیں گنوائیں ان کے اہل خانہ کو مناسب معاوضہ دیا جانا چاہیے ، اس حادثے کی شفاف تحقیقات ہونی چاہئے اور جہاں بھی غفلت، ضابطوں کی خلاف ورزی یا ناکامی ثابت ہو وہاں جوابدہی طے کی جانی چاہیے۔

 

پروفیسر سلیم انجینئر نے کہا کہ یہ سانحہ دہلی یونیورسٹی اور اس کے آس پاس رہنے والے طلبہ کے لیے ایک بڑے بحران کی نشاندہی کرتا ہے۔ جب کالجوں میں ہاسٹل کی سہولتیں انتہائی ناکافی ہوں تو دہلی میں باہر سے آنے والے ہزاروں طلبہ پیئنگ گیسٹ رہائش گاہوں اور کرائے کے مکانات پر انحصار کرنے پر مجبور ہوجاتے ہیں۔ ایسی رہائش گاہوں کی بڑھتی ہوئی ضرورت نے اس طرح کے سنگین حالات پیدا کر دئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ حکومت اور متعلقہ حکام کو فوری طور پر طلبہ کے لیے مناسب اور سستے ہاسٹل کی سہولتیں فراہم کرنے کے انتظامات کرنے چاہیے۔ اس کے ساتھ ساتھ ستیہ نکیتن اور اس جیسے دوسرے ہاسٹلوں اور پی جی عمارتوں کی جانچ ، آڈٹ اور حفاظتی جائزہ بلا تاخیر کرایا جانا چاہیے۔ رہائش کی بڑھتی ہوئی ضرورت کو پورا کرنے کے نام پر حفاظتی معیار، ایمرجینسی اکزٹ ، عمارتوں کی منظوری اور دیگر ضروری حفاظتی اقدامات پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جانا چاہئے۔

 

انہوں نے مزید کہا کہ ہم اس سانحے کے خلاف احتجاج کرنے والے طلبہ اور دیگر افراد کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرتے ہیں اور ان کے جائز خدشات اور مطالبات کی حمایت کرتے ہیں۔طلبہ کے مطالبات کو نظرانداز کرنے کے بجائے ان کو سنجیدگی سے سنا اور حل کیا جانا چاہیے۔ ہم حکومت اور متعلقہ حکام سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ احتجاج کرنے والے طلبہ سے بات چیت کریں، ان کے خدشات کو دور کریں اور ٹھوس اقدامات کریں۔ صرف ضابطہ کی ناکامیوں، بنیادی سہولتوں کی کمی یا تجارتی مفادات کی وجہ سے طلبہ کی زندگیوں کو داؤ پر نہیں لگایا جاسکتا۔ اس سانحے کی جواب دہی کے ساتھ ساتھ مؤثر اقدامات بھی ضروری ہیں تاکہ مستقبل میں اس طرح کے المناک حادثے مزید نوجوانوں کی جان نہ لیں۔

 

معاوضہ اور طلبہ کی رہائش گاہوں کی حفاظت کو یقینی بنانے کا کیا مطالبہ

 

نئی دہلی: جماعت اسلامی ہند کے نائب امیر پروفیسر سلیم انجینئر نے دہلی کے ستیہ نکیتن میں طلبہ کے ہاسٹل کی پانچ منزلہ عمارت کے انہدام پر اپنے گہرے رنج و غم کا اظہار کیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق اس حادثے میں سات طلبہ جاں بحق اور متعدد دیگر زخمی ہوئے ہیں۔ انہوں نے جاں بحق ہونے والے طلبہ کے اہل خانہ سے دلی تعزیت کا اظہار کیا اور اس سانحے سے متاثرہ طلبہ اور متعلقین کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ اس واقعے نے ایک بار پھر طلبہ کی رہائش گاہوں کی حالت زار کو اجاگر کر دیا ہے ۔انہوں نے کہا کہ اس المناک حادثے نے اس ضرورت کو ثابت کر دیا ہے کہ تعلیم کے لیے دہلی آنے والے نوجوانوں کو محفوظ اور مناسب رہائش گاہیں فراہم کی جائیں۔

 

جماعت اسلامی ہند کے ایک وفد نے جائے حادثہ کا دورہ کیا اور وہاں موجود لوگوں سے ملاقاتیں کرکے زمینی صورت حال کو سمجھنے کی کوشش کی۔ وفد میں جماعت اسلامی ہند کے نائب امیر پروفیسر سلیم انجینئر، قومی سکریٹری مولانا شفیع مدنی، آئی۔ کریم اللہ، عتیق الرحمن اور سلمان احمد شامل تھے۔

 

میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے پروفیسر سلیم انجینئر نے کہا کہ ہم نے اس دورے کے دوران جو کچھ دیکھا اور جو معلومات حاصل کیں وہ انتہائی تشویش ناک ہیں۔ اس سانحے کو محض ایک عمارت کے منہدم ہونے کا واقعہ قرار دے کر نظرانداز نہیں کیا جاسکتا بلکہ اس حادثے کے ذمہ داران کی جواب دہی طے کی جانی چاہئے ۔انہوں نے کہا کہ حادثے میں جن لوگوں نے اپنی جانیں گنوائیں ان کے اہل خانہ کو مناسب معاوضہ دیا جانا چاہیے ، اس حادثے کی شفاف تحقیقات ہونی چاہئے اور جہاں بھی غفلت، ضابطوں کی خلاف ورزی یا ناکامی ثابت ہو وہاں جوابدہی طے کی جانی چاہیے۔

 

پروفیسر سلیم انجینئر نے کہا کہ یہ سانحہ دہلی یونیورسٹی اور اس کے آس پاس رہنے والے طلبہ کے لیے ایک بڑے بحران کی نشاندہی کرتا ہے۔ جب کالجوں میں ہاسٹل کی سہولتیں انتہائی ناکافی ہوں تو دہلی میں باہر سے آنے والے ہزاروں طلبہ پیئنگ گیسٹ رہائش گاہوں اور کرائے کے مکانات پر انحصار کرنے پر مجبور ہوجاتے ہیں۔ ایسی رہائش گاہوں کی بڑھتی ہوئی ضرورت نے اس طرح کے سنگین حالات پیدا کر دئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ حکومت اور متعلقہ حکام کو فوری طور پر طلبہ کے لیے مناسب اور سستے ہاسٹل کی سہولتیں فراہم کرنے کے انتظامات کرنے چاہیے۔ اس کے ساتھ ساتھ ستیہ نکیتن اور اس جیسے دوسرے ہاسٹلوں اور پی جی عمارتوں کی جانچ ، آڈٹ اور حفاظتی جائزہ بلا تاخیر کرایا جانا چاہیے۔ رہائش کی بڑھتی ہوئی ضرورت کو پورا کرنے کے نام پر حفاظتی معیار، ایمرجینسی اکزٹ ، عمارتوں کی منظوری اور دیگر ضروری حفاظتی اقدامات پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جانا چاہئے۔

 

انہوں نے مزید کہا کہ ہم اس سانحے کے خلاف احتجاج کرنے والے طلبہ اور دیگر افراد کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرتے ہیں اور ان کے جائز خدشات اور مطالبات کی حمایت کرتے ہیں۔طلبہ کے مطالبات کو نظرانداز کرنے کے بجائے ان کو سنجیدگی سے سنا اور حل کیا جانا چاہیے۔ ہم حکومت اور متعلقہ حکام سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ احتجاج کرنے والے طلبہ سے بات چیت کریں، ان کے خدشات کو دور کریں اور ٹھوس اقدامات کریں۔ صرف ضابطہ کی ناکامیوں، بنیادی سہولتوں کی کمی یا تجارتی مفادات کی وجہ سے طلبہ کی زندگیوں کو داؤ پر نہیں لگایا جاسکتا۔ اس سانحے کی جواب دہی کے ساتھ ساتھ مؤثر اقدامات بھی ضروری ہیں تاکہ مستقبل میں اس طرح کے المناک حادثے مزید نوجوانوں کی جان نہ لیں۔

Ads