پیر کو تعز، البیضا اور الجوف صوبوں میں لڑائی شدت اختیار کر گئی۔ الجوف کو دارالحکومت صنعا کی جانب پیش قدمی کے لیے اہم دروازہ سمجھا جاتا ہے۔ سعودی عرب کی حمایت یافتہ حکومتی فورسز نے دعویٰ کیا کہ انہوں نے حوثیوں کے ٹھکانوں پر راکٹ اور ڈرون حملے کیے اور زمینی دستوں کے درمیان ’’شدید لڑائی‘‘ جاری رہی۔
حوثیوں نے کہا کہ انہوں نے الجوف میں حکومتی فورسز کی پیش قدمی پسپا کر دی ہے۔ گروپ کے مطابق الحزم شہر میں ایک جیل پر فضائی حملے میں کم از کم 7 افراد ہلاک ہوئے۔ حوثیوں نے اس حملے کا الزام ریاض پر عائد کرتے ہوئے کہا کہ ’’جارحیت کو سزا کے بغیر نہیں چھوڑا جائے گا۔‘‘
دوسری جانب سعودی عرب نے حوثیوں پر مملکت کے جنوبی صوبوں میں حالیہ حملوں کے دوران خواتین اور بچوں سمیت کم از کم 73 شہریوں کو زخمی کرنے کا الزام عائد کیا ہے۔
ریاض نے اس ’’خطرناک کشیدگی‘‘ کے جواب میں کارروائی کا بھی وعدہ کیا ہے۔
کشیدگی میں اضافے کے دوران یمن کے نائب وزیر دفاع میجر جنرل سمیر الصبری نے سرکاری ٹیلی ویژن پر نشر ہونے والے بیان میں کہا کہ حکومت نے ’’صنعا واپس لینے‘‘ کا فیصلہ کیا ہے۔
یمنی حکومت کی حامی فورسز کے ترجمان ماجد النزیلی نے کہا کہ مہم کا مقصد ’’یمن کو حوثیوں کے قبضے سے آزاد کرانا اور صنعا کو تمام یمنی باشندوں کے لیے دارالحکومت کی حیثیت سے بحال کرنا‘‘ ہے۔
انہوں نے شہریوں کو صنعا جانے والی کئی اہم شاہراہوں سے دور رہنے کی بھی تنبیہ کی۔ ان کے مطابق یہ انتباہ دارالحکومت کو مارب اور الجوف سے ملانے والے راستوں پر لاگو ہوتا ہے، جن میں نہْم، صرواح، مہلیہ اور الحزم سے گزرنے والی سڑکیں شامل ہیں۔
یہ دشمنی 2022 میں اقوام متحدہ کی ثالثی میں ہونے والی جنگ بندی کے بعد بڑے پیمانے پر لڑائی کے دوبارہ شروع ہونے کے بعد سب سے سنگین کشیدگی ہے۔
یمن میں جنگ 2014 میں اس وقت شروع ہوئی جب حوثیوں نے صنعا پر قبضہ کر لیا، جس کے بعد اگلے سال سعودی قیادت میں فوجی مداخلت کی گئی۔ سفارت کاروں کو امید تھی کہ جنگ بندی ایک پائیدار سیاسی تصفیے کی بنیاد بنے گی، تاہم امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ سے پیدا ہونے والی علاقائی کشیدگی کے باعث یہ کوششیں ناکام ہو گئیں۔
جولائی میں اس وقت لڑائی دوبارہ شروع ہوئی جب حکومتی فورسز نے صنعا میں حوثیوں کے زیر کنٹرول ہوائی اڈے پر حملہ کیا اور ایران سے آنے والے ایک طیارے کو اترنے سے روک دیا۔
گزشتہ ہفتے حوثیوں نے ایک بڑی کارروائی شروع کی اور مغربی تعز اور جنوبی حدیدہ کے راستے بحیرہ احمر کے ساحلی شہر المخا اور باب المندب آبنائے کی جانب پیش قدمی کی کوشش کی۔
حوثیوں نے سعودی بحری جہازوں کے لیے اس آبی راستے کی ناکہ بندی کا اعلان کیا تھا۔ باب المندب بحیرہ احمر اور خلیج عدن کے درمیان بحری تجارت کے لیے ایک اہم گزرگاہ ہے۔ ایران کی جانب سے امریکا اور اسرائیل کی جنگ کے آغاز پر آبنائے ہرمز سے آمدورفت محدود کیے جانے کے بعد سعودی تیل کی برآمدات کے لیے باب المندب کی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے۔
الجزیرہ کے یمن امور کے ایڈیٹر احمد الشلافی نے کہا کہ یمنی حکومتی فورسز بظاہر حوثیوں کی ابتدائی کارروائی کا جھٹکا برداشت کر چکی ہیں اور ’’لڑائی کو کئی محاذوں تک پھیلا دیا ہے تاکہ حوثی فورسز کو مختلف علاقوں میں مصروف رکھا جا سکے اور ان پر دباؤ بڑھایا جا سکے۔‘‘
انہوں نے کہا کہ جمعرات کو لڑائی زیادہ تر تعز کے مغرب اور حدیدہ کے جنوب تک محدود تھی، لیکن اب یہ الضالع، مارب، الجوف اور البیضا صوبوں تک پھیل چکی ہے۔
انہوں نے کہا، ’’الجوف خاص طور پر اہم ہے کیونکہ اس کی سرحد سعودی عرب سے ملتی ہے اور یہ صوبہ صعدہ کی جانب راستہ فراہم کرتا ہے، جو حوثیوں کا اہم گڑھ ہے۔‘‘
انہوں نے مزید کہا، ’’البیضا تزویراتی اعتبار سے اہم ہے کیونکہ یہ یمن کے وسط میں واقع ہے اور 8 گورنریٹس کو آپس میں ملاتا ہے، جن میں 4 شمال اور 4 جنوب میں ہیں۔‘‘
لڑائی کے نتیجے میں سیکڑوں افراد ہلاک یا زخمی ہو چکے ہیں۔
