یہ الزام ایسے وقت سامنے آیا ہے جب یمن میں لڑائی شدت اختیار کر گئی ہے اور سعودی عرب کی حمایت یافتہ بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومت نے ایران کے حمایت یافتہ حوثیوں سے علاقے واپس لینے کے لیے جوابی کارروائی شروع کر دی ہے۔
یمن میں سعودی قیادت میں حوثیوں کے خلاف لڑنے والے اتحاد کے ترجمان میجر جنرل ترکی المالکی نے ایک بیان میں کہا کہ حوثیوں کے حملوں میں ابہا، خمیس مشیط، جازان اور نجران صوبوں میں شہری اور اقتصادی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا۔
انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ یہ حملے کب کیے گئے۔
المالکی نے حملوں کو ’’خطرناک کشیدگی‘‘ اور سعودی عرب کی خودمختاری کی ’’کھلی خلاف ورزی‘‘ قرار دیتے ہوئے خبردار کیا کہ ان سے مملکت کے شہریوں اور رہائشیوں کو براہِ راست خطرہ لاحق ہے۔
انہوں نے کہا کہ اتحاد حملوں کا مقابلہ کرنے اور خطرے کے ذرائع کے خلاف کارروائی کے لیے ’’تمام ضروری عملی اقدامات‘‘ کرے گا۔
سعودی وزارتِ توانائی نے ایک الگ بیان میں کہا کہ منگل کی صبح مملکت کے جنوبی علاقوں میں ’’توانائی کے شعبے کی متعدد تنصیبات اور مراکز‘‘ کو نشانہ بنایا گیا۔
بیان کے مطابق حملوں میں ’’متعدد شہری اور رہائشی‘‘ زخمی ہوئے اور ’’کئی مقامات پر آگ بھڑک اٹھی‘‘، جس کے باعث ’’کچھ سرگرمیاں عارضی طور پر روکنا پڑیں‘‘۔
حوثیوں کی جانب سے فوری طور پر کوئی تبصرہ نہیں کیا گیا۔
اس سے قبل حوثیوں نے سعودی عرب پر شمالی صوبہ الجوف کے علاقے الحزم میں ایک جیل پر فضائی حملہ کرنے اور کم از کم 7 افراد کو ہلاک کرنے کا الزام عائد کیا تھا۔ گروپ نے کہا تھا کہ ’’یمن کے خلاف جاری سعودی جارحیت کو سزا کے بغیر نہیں چھوڑا جائے گا۔‘‘
ریاض نے اس الزام پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔
یمن میں 2014 سے تنازع جاری ہے، جب حوثیوں نے دارالحکومت صنعا پر قبضہ کر لیا تھا، جس کے بعد اگلے سال سعودی قیادت میں فوجی اتحاد نے یمن میں مداخلت کی۔
2022 میں اقوام متحدہ کی ثالثی میں ہونے والی جنگ بندی کے بعد دونوں فریقوں کے درمیان لڑائی بڑی حد تک رک گئی تھی، تاہم فروری میں امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف شروع کی گئی جنگ کے بعد دوبارہ شروع ہوگئی۔
جولائی میں اس وقت دشمنیاں دوبارہ شدت اختیار کر گئیں جب حوثیوں نے صنعا کے ہوائی اڈے پر حملے کے بعد سعودی عرب کے ابہا انٹرنیشنل ایئرپورٹ کی جانب میزائل اور ڈرونز داغے۔
اسی ماہ کے آخر میں حوثیوں نے سعودی عرب کے خلاف بحری ناکہ بندی کا اعلان کیا اور بحیرہ احمر میں سعودی عرب سے منسلک بحری جہازوں کو نشانہ بنانا شروع کر دیا۔
جمعرات کو حوثیوں نے ایک بڑی کارروائی شروع کی اور مغربی تعز اور جنوبی حدیدہ سے پیش قدمی کرتے ہوئے بحیرہ احمر کے ساحلی شہر المخا (موکا) اور باب المندب آبنائے کی جانب بڑھنے کی کوشش کی۔
ابتدائی طور پر لڑائی تعز کے مغرب اور حدیدہ کے جنوب تک محدود تھی، تاہم اب یہ الضالع، مارب، الجوف اور البیضا صوبوں تک پھیل گئی ہے۔ حکومت حوثی فورسز کو مختلف محاذوں پر پھیلانے اور گروپ پر دباؤ بڑھانے کی کوشش کر رہی ہے۔
عالمی ادارۂ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے مطابق 24 اگست سے اب تک تقریباً 1,078 افراد ہلاک یا زخمی ہو چکے ہیں، جبکہ جمعرات سے 21,000 سے زائد افراد بے گھر ہوئے ہیں۔
