مسٹر پوتن نے ہفتے کے روز کریملن میں ہونے والی اس ملاقات کے دوران یوکرین امن مذاکرات کے آئندہ اقدامات پر گفتگو کی۔ اس بات چیت میں روس کی طرف سے کریملن کے معاون یوری اوشاکوف اور رشین ڈائریکٹ انویسٹمنٹ فنڈ (آرڈی آئی ایف) کے چیف ایگزیکٹو آفیسر (سی ای او) کیرل دمتریو نے شرکت کی۔ مسٹر دمتریو دیگر ممالک کے ساتھ سرمایہ کاری اور معاشی تعاون کے لیے مسٹر پوتن کے خصوصی نمائندے بھی ہیں۔
گفتگو کے دوران، روسی صدر نے صورتحال کو دشوار قرار دیا اور یوکرین تنازع کو حل کرنے کے لیے امریکی فریق کی کوششوں کا ذکر کیا۔ مسٹر اوشاکوف نے صحافیوں کو بتایا کہ مسٹر پوتن نے یوکرین تنازع کی تمام بنیادی وجوہات کو حل کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔
انہوں نے کہا کہ روسی فریق نے بات چیت کے دوران خصوصی فوجی کارروائی کے دوران پیدا ہونے والی صورتحال کا واضح اور تفصیلی جائزہ پیش کیا۔ انہوں نے کہا، "روسی فریق نے جنگی علاقے میں روسی فوج کی واقعی پیش قدمی کا ذکر کیا، اپنے اہداف حاصل کرنے کا اعتماد ظاہر کیا اور یقینی طورپر تنازع کی تمام بنیادی وجوہات کو حل کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔"
روس مسلسل یوکرین پر نازی لیڈران کی بحالی اور ان کی قصیدہ خوانی الزام لگاتا رہا ہے۔ روس کے مطابق، کئی مغربی سیاست دانوں نے بھی اس مسئلے کو نظر انداز کیا ہے۔
مسٹر اوشاکوف نے صحافیوں سے کہا، "اس بات پر اتفاق ہوا ہے کہ دونوں ممالک (روس اور امریکہ) کے صدور ذاتی رابطہ برقرار رکھیں گے اور مسٹر وٹکوف اور مسٹر کشنر کی سطح پر بھی بات چیت جاری رہے گی۔"
