یمنی مسلح افواج کے میڈیا سینٹر کے مطابق میزائل حملوں کے مقامات اور اہداف کی فوری طور پر تفصیلات سامنے نہیں آسکیں، جبکہ جانی و مالی نقصان کے بارے میں بھی کوئی اطلاع جاری نہیں کی گئی۔
دوسری جانب سرکاری افواج نے صوبہ مأرب، البیضاء اور الضالع کے مختلف محاذوں پر حوثیوں کے کیمپوں، مورچوں، اجتماعات اور گاڑیوں کو نشانہ بنانے کے لیے سات فوجی کارروائیوں کا اعلان کیا۔ ان کارروائیوں میں ڈرونز اور توپ خانے کے علاوہ میزائل لانچرز بھی استعمال کیے گئے۔
سرکاری فوج کے میڈیا سینٹر نے بعض کارروائیوں کی ویڈیوز بھی جاری کیں اور دعویٰ کیا کہ ان میں مأرب اور البیضاء کے محاذوں پر حوثیوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا۔
دونوں فریقوں کے درمیان بیلسٹک میزائلوں، ڈرونز اور دیگر ہتھیاروں کے بڑھتے استعمال نے یمن کے اندرونی محاذوں پر کشیدگی میں اضافے کے خدشات پیدا کر دیے ہیں۔
یہ صورتحال ایسے وقت سامنے آئی ہے جب خطے میں ایران اور امریکہ کے درمیان جاری کشیدگی کے باعث علاقائی تناؤ بڑھ رہا ہے اور اس کے یمن کی صورتحال پر بھی ممکنہ اثرات کے خدشات ظاہر کیے جا رہے ہیں۔
