Masarrat
Masarrat Urdu

ہندوستان کے 55 فیصد بچے موسمیاتی خطرات کی زد میں: یونیسیف

Thumb

نئی دہلی، 02 ستمبر (مسرت ڈٓاٹ کام) یونیسیف کے شراکت داری کے سربراہ بو بسکئیر نے کہا ہے کہ ہندوستان کے 55 فیصد بچے شدید گرمی کی لہر، پانی کے بحران اور سیلاب سمیت متعدد موسمیاتی خطرات کا ایک ساتھ سامنا کر رہے ہیں۔

مسٹر بسکئیر نے بدھ کے روز انڈیا ہیبیٹیٹ سینٹر میں پائیدار ترقیاتی تعلیم پر آٹھویں بین الاقوامی کانفرنس (آئی سی ایس ای) 2026 کے افتتاحی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہندوستان میں 47 کروڑ سے زائد بچے ہیں، جو کسی بھی ملک میں بچوں کی سب سے بڑی آبادی ہے۔ انہوں نے 'موسمیاتی تبدیلی سے متاثرہ بچے' کے تصور کو سامنے رکھتے ہوئے اس سال پیدا ہونے والی ایک فرضی بچی پریتی کی مثال دی۔ انہوں نے بتایا کہ موسمیاتی بحران سال 2030 تک اس کی تعلیم اور 2047 تک اس کی بالغ زندگی کو متاثر کر سکتا ہے۔ انہوں نے موسمیاتی موافق پانی کے نظام میں سرمایہ کاری کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ہندوستان میں اب بھی چھ کروڑ خاندانوں کو باقاعدگی سے پینے کا محفوظ پانی دستیاب نہیں ہے۔

دو روزہ آئی سی ایس ای 2026 کا انعقاد مبیس فاؤنڈیشن کی جانب سے کیا جا رہا ہے۔ اس سال کانفرنس کا موضوع "تخلیقی کارروائی کے لیے پائیدار ترقیاتی تعلیم" ہے۔ اس میں پالیسی ساز، اساتذہ، سائنس داں، صنعت کے نمائندے اور نوجوان حصہ لے رہے ہیں۔ نیپال-تبت سرحد پر حال ہی میں آنے والے ناگہانی سیلاب کے تناظر میں منعقدہ کانفرنس میں مقررین نے موسمیاتی بحران پر تشویش کا اظہار کیا اور اسے اب دور کا خطرہ نہیں بلکہ موجودہ حقیقت قرار دیا۔ کانفرنس میں موسمیاتی کارروائی، گرین اسکلز، ٹیکنالوجی و جدت طرازی، حیاتیاتی تنوع اور پائیدار روزگار سمیت مختلف موضوعات پر سیشن ہوں گے۔ اس میں نوجوانوں کے لیے خصوصی پروگرام بھی رکھے گئے ہیں، جن میں ملک بھر کے طلباء اور نوجوان موسمیاتی کارکنان حصہ لے رہے ہیں۔

 

Ads