کرناٹک پردیش کانگریس کمیٹی (کے پی سی سی) نے یہاں فریڈم پارک میں احتجاجی مظاہرہ کیا۔ سابق وزیر اعلیٰ سدارمیا اور ریاستی کانگریس صدر بی کے ہری پرساد نے بی جے پی پر مسٹر گاندھی کی آواز دبانے کے لیے پولیس کارروائی کا سہارا لینے کا الزام عائد کیا اور آئینی اقدار پر حملے کے خلاف ان کا دفاع کیا۔
مسٹر سدارمیا نے کہا کہ مسٹر گاندھی نے کوئی جرم نہیں کیا، انہوں نے صرف اس مقام کی تطہیر پر سوال اٹھایا تھا جہاں مسٹر کھرگے نے عوامی جلسے سے خطاب کیا تھا۔
مسٹر سدارمیا نے کہا، ’’مسٹر گاندھی نے کچھ بھی غلط نہیں کیا۔ انہوں نے صرف اس جگہ کی تطہیر پر سوال اٹھایا تھا جہاں مسٹر کھرگے نے اپنی تقریر کی تھی۔ ان کے خلاف مقدمہ درج کرنا سراسر ناانصافی ہے۔‘‘
انہوں نے کہا کہ تطہیر صرف مسٹر کھرگے کی توہین نہیں بلکہ یہ آئین میں چھوت چھات کی ممانعت سے جڑا ایک سنگین معاملہ بھی ہے۔ انہوں نے کہا، ’’جس جگہ مسٹر کھرگے نے تقریر کی، اس کی تطہیر کرنا آئین کے خلاف ہے۔ ہمارا آئین چھوت چھات کی اجازت نہیں دیتا۔‘‘
مسٹر سدارمیا نے الزام لگایا کہ مرکزی حکومت پر تنقید کرنے کی وجہ سے بی جے پی مسٹر گاندھی کی آواز دبانے کی کوشش کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا، ’’شاید بی جے پی نے یہ طے کر لیا ہے کہ مسٹر گاندھی کی آواز کو کسی نہ کسی طرح دبایا جانا چاہیے۔ اس سے پہلے بھی ان کے خلاف مقدمات درج کیے گئے اور ان کی لوک سبھا رکنیت منسوخ کر دی گئی تھی۔ جب انہوں نے عدالت سے رجوع کیا تو آخرکار انہیں راحت ملی۔‘‘
سابق وزیر اعلیٰ نے کہا کہ چھوت چھات کے خلاف مسٹر گاندھی کا موقف اور آئینی اقدار کا دفاع ہی اس موجودہ سیاسی ٹکراؤ کا مرکزی نقطہ بن گیا ہے۔
انہوں نے الزام لگایا، ’’مسٹر گاندھی آئین کے حق میں اور چھوت چھات کے خلاف ہیں۔ منو وادی نظریے پر چلنے والی بی جے پی آئینی اقدار کے برخلاف کام کر رہی ہے۔‘‘
مسٹر سدارمیا نے ریاست گیر احتجاج کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ کانگریس کارکن راہل گاندھی کے ساتھ کھڑے رہیں گے اور ان کی لڑائی کو مضبوط کریں گے۔ مسٹر ہری پرساد نے کہا کہ یہ مظاہرہ جمہوری اور آئینی اقدار پر ہوئے حملے کے خلاف پورے کرناٹک میں منعقد کیے جا رہے احتجاجی مظاہروں کا حصہ ہے۔انہوں نے کہا کہ مسٹر کھرگے کی تقریر کے بعد جلسہ گاہ کی تطہیر کے خلاف ہر ضلع میں احتجاج ہونا چاہیے تھا۔
مسٹر ہری پرساد نے کہا، ’’مسٹر کھرگے ہماری پارٹی کے صدر اور ایک سینئر رہنما ہیں، جو نو مرتبہ رکن اسمبلی، دو مرتبہ رکن پارلیمنٹ اور راجیہ سبھا میں اپوزیشن لیڈر رہ چکے ہیں۔ جس مقام پر انہوں نے عوامی جلسے سے خطاب کیا، اس کی تطہیر کرنا ان کی اور مساوات کے آئینی اصول کی توہین ہے۔‘‘ انہوں نے یوتھ کانگریس اور این ایس یو آئی کارکنوں سے اس تحریک کو براہ راست بی جے پی دفاتر تک لے جانے اور بی جے پی رہنماؤں کو سیاہ جھنڈے دکھانے کی اپیل کی۔
مسٹر ہری پرساد نے کہا کہ امتیاز کے خلاف کانگریس کی جدوجہد اس کی سیاسی روایت کا حصہ ہے اور آئین نے تاریخی طور پر محروم طبقات کو تعلیم، روزگار، عوامی مقامات تک رسائی اور وقار کے ساتھ زندگی گزارنے کا حق دیا ہے۔
انہوں نے کہا، ’’آئین نے ہمیں خودداری کے ساتھ زندگی گزارنے کا حق دیا ہے۔ اگر آئین کو خطرہ لاحق ہوتا ہے تو ہمیں لڑنا ہی ہوگا۔‘‘ کانگریس رہنماؤں نے زور دے کر کہا کہ اس ایف آئی آر نے تنازع کو صرف مسٹر گاندھی تک محدود نہیں رکھا بلکہ اسے ذات پات پر مبنی امتیاز، آئینی حقوق اور سماجی مساوات کے تئیں بی جے پی کے رویے کے خلاف ایک وسیع سیاسی جدوجہد میں تبدیل کر دیا ہے۔
