Masarrat
Masarrat Urdu

ٹرمپ کا ایران سے مذاکرات کو خارج از امکان قرار، امریکہ کو آبنائے ہرمز پر ’تقریباً مکمل کنٹرول‘

  • 02 Sep 2026
  • مسرت ڈیسک
  • دنیا
Thumb

واشنگٹن، 2 ستمبر (مسرت ڈاٹ کام) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بدھ کے روز ایران کو فوری طور پر مذاکرات کی میز پر واپس لانے کی کسی بھی کوشش کو خارج از امکان قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ امریکہ کی موجودہ پوزیشن کو ترجیح دیتے ہیں، جہاں واشنگٹن کا دعویٰ ہے کہ اسے تزویراتی اہمیت کی حامل آبنائے ہرمز پر ’’تقریباً مکمل کنٹرول‘‘ حاصل ہے جبکہ ایران کی معیشت ’’مکمل طور پر تباہی کے قریب‘‘ ہے۔

دونوں جانب سے فائرنگ کے دوبارہ تبادلے نے یہ امیدیں ختم کردی ہیں کہ حالیہ کشیدگی کو محدود رکھا جا سکے گا، جبکہ وسیع تر تنازع کا خدشہ بڑھ گیا ہے، جس سے عالمی توانائی کی رسد متاثر ہونے اور دنیا بھر کی معیشتوں پر مزید دباؤ پڑنے کا اندیشہ ہے۔

ٹرمپ نے ٹروتھ سوشل پر ایک پوسٹ میں کہا، ’’جیسا کہ اے بی سی فیک نیوز نے رپورٹ کیا ہے، میں ایران کو مذاکرات کی میز پر لانے کے لیے دباؤ ڈالنے کی کوشش نہیں کر رہا۔ مجھے اس بات کی ذرا بھی پروا نہیں کہ وہ اپنے لیے بے وقعت کسی معاہدے پر دستخط کرتے ہیں یا نہیں۔‘‘ انہوں نے کہا کہ امریکہ اس وقت زیادہ مضبوط پوزیشن میں ہے اور اسے ’’آبنائے ہرمز پر تقریباً مکمل کنٹرول‘‘ حاصل ہے، جبکہ ایران کی معیشت ’’مکمل طور پر تباہ ہو رہی ہے‘‘۔

ٹرمپ نے مزید کہا، ’’وہ صرف ناگزیر انجام کی جانب بڑھ رہے ہیں۔‘‘ اس کے بعد انہوں نے براہ راست ایرانی عوام سے اپنی حکومت کے خلاف کھڑے ہونے کی اپیل کرتے ہوئے کہا، ’’ایرانی عوام کب اٹھ کھڑے ہوں گے اور لڑیں گے؟‘‘

ٹرمپ کے یہ بیانات ایسے وقت سامنے آئے ہیں جب چند گھنٹے قبل امریکی فوج نے ایران میں اسلامی انقلابی گارڈ کور (آئی آر جی سی) کے ٹھکانوں کے خلاف تازہ حملوں کی ایک نئی لہر شروع کی تھی۔ امریکی سینٹرل کمانڈ کے مطابق اس کارروائی میں فضائی دفاعی نظام، رڈار تنصیبات، بحری اثاثے، بارودی سرنگیں بچھانے کی صلاحیتیں اور مواصلاتی مراکز کو نشانہ بنایا گیا۔

کمانڈ نے اس کارروائی کا جواز آبنائے ہرمز میں تجارتی جہاز رانی اور خطے میں موجود امریکی افواج کے خلاف آئی آر جی سی کی جانب سے حالیہ حملوں کی کوششوں کو قرار دیا۔

اس کے جواب میں ایران نے خطے میں امریکی مفادات سے منسلک اہداف کے خلاف میزائل اور ڈرون حملے کیے، جن میں اردن، بحرین اور کویت بھی شامل ہیں۔ یہ اطلاع علاقائی حکام اور ایرانی سرکاری میڈیا نے دی۔

 

Ads