صارفین امور، خوراک و عوامی نظام تقسیم کی وزارت کے مطابق ملک میں چینی کا وافر ذخیرہ موجود ہے اور کسی قسم کی قلت نہیں ہے۔ حکومت کی مداخلت کے بعد ملوں سے ملنے والی چینی کی قیمت تقریباً 20 فیصد کم ہوئی ہے اور جلد ہی اس کا اثر خوردہ بازار میں بھی نظر آنے کی توقع ہے۔
وزارت نے بتایا کہ بعض ملیں اپنے ماہانہ کوٹے کے تحت مقررہ مقدار سے کم چینی فروخت کر رہی تھیں، جبکہ خریدار بھی بعض اوقات مہینے کے آغاز میں خریدی گئی چینی مہینے کے آخر میں اٹھا رہے تھے۔ اس سے بازار میں مصنوعی قلت پیدا ہو رہی تھی۔ صورتحال بہتر بنانے کے لیے ستمبر سے موجودہ ماہانہ کوٹے کے بجائے ہر دو ہفتے میں چینی کی تقسیم کا نظام نافذ کیا جائے گا۔ پہلے ہفتے میں مختص چینی کا کم از کم 40 فیصد فروخت کرنا لازمی ہوگا اور باقی مقدار دوسرے ہفتے میں فروخت کی جائے گی۔
قابل ذکر ہے کہ حالیہ عرصے میں چینی کی خوردہ قیمت تقریباً 45 روپے فی کلو سے بڑھ کر 65 روپے تک پہنچ گئی تھی، جبکہ جمعرات کو ملک بھر میں اس کی اوسط قیمت 64 روپے فی کلو رہی۔ حکومت نے کہا ہے کہ ملوں سے کم قیمت پر چینی ملنے کے بعد خوردہ بازار میں بھی قیمتوں میں نرمی کا رجحان شروع ہوگیا ہے۔
نئے سیزن کے لیے گنے کی پِرائی 15 اکتوبر سے شروع ہوگی۔ حکومت نے شوگر ملوں کو اکتوبر میں تیار ہونے والی چینی بغیر کسی پابندی کے فروخت کرنے کی اجازت بھی دے دی ہے، تاکہ نئی پیداوار جلد از جلد گھریلو بازار میں دستیاب ہو سکے۔
