جولائی میں طے پانے والے اس معاہدے کو پیر کے روز کانگریس میں پیش کیا گیا۔ اس کے تحت امریکی کمپنیاں سعودی عرب کو شہری جوہری ٹیکنالوجی برآمد کر سکیں گی، جس میں اے پی1000 ری ایکٹرز کی تعمیر کے منصوبے بھی شامل ہیں۔
یہ منصوبہ دسیوں ارب ڈالر مالیت کا ہو سکتا ہے اور اس سے ویسٹنگ ہاؤس کو فائدہ پہنچے گا، جو کینیڈا میں قائم کیمیکو اور بروک فیلڈ اثاثہ جاتی انتظامیہ کی مشترکہ ملکیت ہے۔
امریکی انتظامیہ کے ایک عہدیدار نے دی ٹائمز آف اسرائیل کو بتایا کہ، ’’صدر کا مؤقف تبدیل نہیں ہوا کہ یہ معاہدہ اسی صورت میں آگے بڑھے گا جب سعودی عرب ابراہیم معاہدوں میں شامل ہوگا۔‘‘
ابراہیم معاہدوں سے مراد امریکہ کی ثالثی میں ہونے والے وہ معاہدے ہیں جن کے نتیجے میں متحدہ عرب امارات، بحرین اور مراکش نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لائے تھے۔
یہ شرط اس وقت عائد کی گئی جب جولائی میں ابتدائی طور پر معاہدہ سعودی-اسرائیلی تعلقات کو معمول پر لانے کی واضح شرط کے بغیر طے کیا گیا تھا۔ اس پر اسرائیل اور اس کے حامیوں کی جانب سے شدید تنقید کی گئی، جو ایسی کسی بھی جوہری ڈیل کی پیش رفت کے سخت مخالف تھے جس میں اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کی شرط شامل نہ ہو۔
اب یہ معاہدہ کانگریس کے 90 قانون ساز اجلاسوں کے دنوں پر مشتمل جائزے کے مرحلے میں داخل ہو گیا ہے۔ تاہم یہ واضح نہیں کہ معاہدے کو کانگریس بھیجنے سے ٹرمپ کے وسیع تر مقصد، یعنی ریاض سے اسرائیل کو باضابطہ طور پر تسلیم کروانے میں کس حد تک پیش رفت ہوگی۔
اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کا معاملہ خاص طور پر پیچیدہ ہے، کیونکہ سعودی عرب نے اسرائیل کو تسلیم کرنے سے قبل فلسطینی ریاست کے قیام کی جانب ناقابل واپسی راستے کی ضمانت کا مطالبہ کر رکھا ہے۔ اسرائیلی وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو اور ان کی حکومت نے اس شرط کو واضح طور پر مسترد کر دیا ہے۔
سعودی عرب اور اسرائیل کے درمیان تعلقات معمول پر لانے کی ابتدائی کوششوں میں 2023 میں نمایاں پیش رفت ہوئی تھی، تاہم 7 اکتوبر 2023 کو حماس کے حملے اور اس کے بعد غزہ میں شروع ہونے والی جنگ نے اس پیش رفت کو تیزی سے متاثر کر دیا، جس کے بعد دونوں ممالک کے درمیان تعلقات معمول پر لانے کے امکانات مزید کم ہوگئے۔
اس جوہری معاہدے کو جوہری عدم پھیلاؤ کے حفاظتی اقدامات کے حوالے سے بھی تنقید کا سامنا ہے۔ واشنگٹن اور متحدہ عرب امارات کے درمیان 2009 کے شہری جوہری معاہدے کے برعکس سعودی معاہدے میں واضح طور پر ریاض کو یورینیم افزودگی یا استعمال شدہ جوہری ایندھن کی دوبارہ پروسیسنگ کی ٹیکنالوجی حاصل کرنے سے نہیں روکا گیا، حالانکہ ان ٹیکنالوجیز کو ممکنہ طور پر جوہری ہتھیار بنانے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔
ٹرمپ انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ معاہدے میں امریکی قانون کے تحت مطلوبہ جوہری عدم پھیلاؤ کے حفاظتی اقدامات شامل ہیں۔ تاہم نان پروولیفریشن پالیسی ایجوکیشن سینٹر کے ہنری سوکولسکی نے مؤقف اختیار کیا کہ کانگریس کے جائزے کے نتیجے میں معاہدہ مزید سخت یورینیم افزودگی کی پابندیوں یا اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کی شرط کے بغیر بھی آگے بڑھ سکتا ہے۔
سوکولسکی نے کہا، ’’اس عمل کا آغاز کرکے ٹرمپ نے یہ امکان پیدا کر دیا ہے کہ کانگریس معاہدے کو معمول پر لانے اور جوہری پھیلاؤ سے متعلق شرائط کے بغیر آگے بڑھنے کی اجازت دے سکتی ہے۔ اگر آپ واقعی یورینیم افزودگی نہ ہونے اور اسرائیل کو تسلیم کیے جانے کے معاملے میں سنجیدہ ہیں تو یہ یقیناً مثالی صورتحال نہیں ہے۔‘‘
