رپورٹ کے مطابق، ایرانی حملوں میں سی آئی اے سے منسلک ٹھکانوں، نگرانی کے آلات اور امریکی فوج کے ساتھ شیئر کیے جانے والے انٹیلی جنس آلات کو نشانہ بنایا گیا۔ اس کے نتیجے میں امریکی کانگریس کو متاثرہ ٹھکانوں کی مرمت کے لیے اضافی فنڈز کا انتظام کرنا پڑ رہا ہے۔
ان حملوں نے امریکی فوجی تیاریوں کی سنگین خامیوں کو بھی بے نقاب کیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق، امریکی ادارے ایران کے خلاف جنگ میں شامل تو ہوئے، لیکن انہوں نے ایران کے میزائل اور ڈرون ہتھیاروں سے اپنے فوجی اڈوں اور انٹیلی جنس ڈھانچے کے تحفظ کے لیے مناسب تیاری نہیں کی تھی۔
سینٹر فار اسٹریٹیجک اینڈ انٹرنیشنل اسٹڈیز (سی ایس آئی ایس ) کے سیٹھ جونز نے این بی سی نیوز سے کہا، ’’امریکہ اس جنگ میں شامل ہوا اور اس نے کسی بھی طرح اپنے ٹھکانوں کے تحفظ پر خاطر خواہ توجہ نہیں دی تھی۔‘‘
انہوں نے کہا، ’’اور ہمیں بھاری نقصان اٹھانا پڑا۔‘‘
رپورٹ کے مطابق، ایران کے خلاف امریکی جنگ نے تباہ شدہ فوجی اور خفیہ تنصیبات کی مرمت کے لیے بھاری مالی بوجھ کا اضافہ کر دیا ہے۔
