Masarrat
Masarrat Urdu

اسرو کے لانچ مراکز کی نجکاری ایک بڑی غلطی ہوگی: سابق اسرو سربراہ جی مادھون نائر

Thumb

ترواننت پورم، 23 اگست (مسرت ڈاٹ کام) سابق چیئرمین اسرو ڈاکٹر جی مادھون نائر نے ہندوستان کے خلائی شعبے میں ضرورت سے زیادہ نجکاری کے خلاف خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ نجی کمپنیاں ہندوستانی خلائی تحقیقاتی ادارے (اسرو) کا متبادل نہیں بن سکتیں۔ انہوں نے لانچ مراکز کے انتظام اور آپریشن کو نجی کمپنیوں کے حوالے کرنے کی کسی بھی کوشش کو ’’احمقانہ‘‘ فیصلہ قرار دیا۔

ایک نیوز چینل کو دیے گئے انٹرویو میں نائر نے لانچ مراکز کے انتظام اور آپریشن کی ذمہ داری نجی کمپنیوں کو سونپنے کی تجاویز کی سخت مخالفت کی اور ملک کے خلائی پروگرام میں نجی شعبے کی شرکت کو بڑھانے کے طریقہ کار پر سوال اٹھایا۔

نائر نے کہاکہ ’’نجی شعبہ کبھی بھی اسرو کا متبادل نہیں بن سکتا۔‘‘ انہوں نے خبردار کیا کہ کسی لانچ مرکز کو نجی کمپنی کے حوالے کرنا ایسا ہی ہوگا جیسے ’’سمندر کی گہرائی جانے بغیر اس میں چھلانگ لگا دینا‘‘۔ ان کا کہنا تھا کہ لانچ مراکز کا انتظام اور آپریشن سرکاری خلائی ادارے کے پاس ہی رہنا چاہیے۔

اسرو کو ایک بے حد قیمتی قومی اثاثہ قرار دیتے ہوئے سابق چیئرمین نے کہا کہ ادارہ پہلے ہی غیر ضروری بیوروکریٹک رکاوٹوں کا سامنا کر رہا ہے۔ انہوں نے یہ الزام بھی لگایا کہ اسرو کی حالیہ دو لانچ ناکامیوں کو اجاگر کرکے خلائی ادارے کو کمزور کرنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔

نائر نے کہا کہ کسی بھی پیچیدہ سائنسی پروگرام میں ناکامیاں فطری عمل کا حصہ ہوتی ہیں اور اس طرح کی ناکامیوں سے شفافیت اور اصلاحی اقدامات کے ذریعے نمٹا جانا چاہیے، نہ کہ انہیں ادارے کو بدنام کرنے کے لیے استعمال کیا جائے۔

انہوں نے کہاکہ ’’اسرو کو جو کام کرنا ہے، وہ اسرو ہی کے سپرد رہنا چاہیے۔‘‘ انہوں نے خلائی ادارے کی بنیادی ذمہ داریوں، مہارت اور تکنیکی صلاحیتوں کے تحفظ کی ضرورت پر زور دیا۔

نائر نے نجی طور پر تیار کیے گئے راکٹوں کا اسرو کی لانچ گاڑیوں سے موازنہ کرنے سے بھی خبردار کیا اور کہا کہ دونوں کی صلاحیتوں اور تکنیکی پختگی میں بہت بڑا فرق ہے۔ انہوں نے اس فرق کو ’’ہاتھی اور بکری‘‘ کے درمیان فرق سے تشبیہ دی۔

نائر نے نجی شعبے کی خلائی شعبے میں زیادہ شرکت کو آسان بنانے کے لیے قائم کیے گئے ریگولیٹری اور فروغی ادارے اِن اسپیس (IN-SPACe) کے کام کرنے کے طریقہ کار پر بھی سخت تحفظات کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ فی الحال یہ ادارہ وہ کردار ادا نہیں کر رہا جو اس سے توقع کی جاتی ہے۔سابق اسرو سربراہ نے کہا کہ ہندوستان کو اپنے خلائی پروگرام کو مزید وسعت دینے کے لیے بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کی ضرورت ہوگی۔ انہوں نے اسرو میں خالی آسامیوں کو پُر کرنے اور افرادی قوت کو مضبوط بنانے پر بھی زور دیا۔

نائر کے یہ تبصرے ایسے دن سامنے آئے جب وزیر اعظم نریندر مودی نے ہندوستان کے خلائی پروگرام میں نجی کمپنیوں، اسٹارٹ اپس اور نوجوان اختراع کاروں کے بڑھتے ہوئے کردار کو اجاگر کیا اور کہا کہ ملک کا خلائی شعبہ ’’عالمی سرمایہ کاروں کے لیے مقناطیس‘‘ بن گیا ہے۔

قومی یومِ خلائی کے اپنے پیغام میں مودی نے کہا کہ خلائی شعبے میں ہندوستان کی بڑھتی ہوئی صلاحیتیں اور مضبوط نجی شعبے کا ابھرنا ملک کو عالمی خلائی صنعت میں اپنی موجودگی وسیع کرنے اور دنیا بھر سے سرمایہ کاری حاصل کرنے میں مدد دے رہے ہیں۔

ایکس پر شیئر کیے گئے ویڈیو پیغام میں انہوں نے کہاکہ ’’ہندوستان کی نجی خلائی صلاحیت دنیا میں اپنی شناخت بنا رہی ہے۔ آج ہندوستان کا خلائی شعبہ عالمی سرمایہ کاروں کے لیے مقناطیس بن گیا ہے۔‘‘

مودی نے کہا کہ ہندوستان کا خلائی پروگرام توسیع کے ایک نئے مرحلے میں داخل ہو رہا ہے، جس میں اسرو کے ساتھ نجی ادارے، اسٹارٹ اپس اور نوجوان اختراع کار بھی بڑھ چڑھ کر اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔

انہوں نے خلائی شعبے میں ملک کی پیش رفت کو 2047 تک ترقی یافتہ ہندوستان کی تعمیر کے وسیع تر قومی مقصد کا ایک اہم حصہ قرار دیا اور کہا کہ عالمی خلائی شعبے میں ہندوستان کی بڑھتی ہوئی موجودگی اس صنعت میں ہونے والی تبدیلی کی عکاس ہے۔

وزیر اعظم نے نوجوان نسل کے کردار کو بھی اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ انجینئر، ڈیزائنر، کوڈر اور سائنس دان ان شعبوں میں ٹیکنالوجی تیار کر رہے ہیں جن پر کبھی ہندوستان میں کام کرنا مشکل سمجھا جاتا تھا۔

انہوں نے پروپلشن سسٹمز، جدید کمپوزٹ میٹریلز، راکٹ اسٹیجز اور سیٹلائٹ پلیٹ فارمز میں ہونے والی پیش رفت کو ان شعبوں کی مثال قرار دیا جہاں نوجوان ہندوستانی ماہرین اور اختراع کار نمایاں ترقی کر رہے ہیں۔

مودی نے نوجوانوں کو سائنس اور ٹیکنالوجی کے شعبوں میں کیریئر بنانے کی ترغیب دینے میں اسرو کے مسلسل کردار کو بھی اجاگر کیا۔ ان کے مطابق ہندوستان کے خلائی مشنز کی کامیابی نے بچوں کو سائنس دان بننے اور ملک کے خلائی پروگرام میں تعاون کرنے کا خواب دیکھنے کی ترغیب دی ہے۔

قومی یومِ خلائی ہر سال 23 اگست کو منایا جاتا ہے۔ یہ دن 2023 میں چندریان-3 مشن کے وکرم لینڈر کی چاند پر کامیاب لینڈنگ کی یاد میں منایا جاتا ہے۔ اس تاریخی مشن کے ذریعے ہندوستان چاند کے جنوبی قطبی خطے میں خلائی جہاز کی کامیاب لینڈنگ کرنے والا دنیا کا پہلا ملک بنا تھا۔

وزیر اعظم کے یہ تبصرے ہندوستان کے نجی خلائی ماحولیاتی نظام میں تیزی سے ہونے والی توسیع کے پس منظر میں سامنے آئے ہیں، جہاں ملکی کمپنیاں لانچ وہیکلز، سیٹلائٹس اور دیگر خلائی ٹیکنالوجیز تیار کرنے میں تیزی سے حصہ لے رہی ہیں۔

جہاں حکومت ہندوستان کی خلائی صلاحیتوں کو وسعت دینے اور عالمی خلائی معیشت میں ملک کی پوزیشن مضبوط کرنے کے لیے نجی شعبے کی زیادہ شرکت کی حوصلہ افزائی کر رہی ہے، وہیں نائر نے زور دیا کہ نجی شعبے کی شرکت اسرو کی معاون ہونی چاہیے، نہ کہ ملک کے اہم ترین خلائی ادارے کو کمزور کرنے یا اہم خلائی بنیادی ڈھانچے کو نجی ہاتھوں میں منتقل کرنے کا سبب بنے۔

انہوں نے عالمی خلائی شعبے میں بڑھتے ہوئے مسابقتی ماحول کے درمیان ہندوستان کے کردار کو وسعت دینے کے لیے مسلسل جدت اور خلائی سفر میں مزید بلند عزائم کی ضرورت پر بھی زور دیا۔

 

Ads