جنوبی کیرولائنا کے مرٹل بیچ روانگی سے قبل جوائنٹ بیس اینڈریوز میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ ایران کے خلاف اقتصادی اقدامات کا مطلب یہ نہیں ہے کہ امریکہ کے پاس فوجی اختیارات محدود ہوگئے ہیں۔
انہوں نے ایران کی معاشی صورتحال کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ملک کے پاس پیسہ، بحریہ اور فضائیہ نہیں ہے، اس کے فوجیوں اور پولیس اہلکاروں کو ادائیگی نہیں کی جارہی اور مہنگائی 350 فیصد تک پہنچ گئی ہے۔ ٹرمپ نے کہا کہ امریکہ دیکھ رہا ہے کہ حالات کس رخ پر جاتے ہیں اور واشنگٹن کو خطے اور آبنائے ہرمز سے متعلق مکمل کنٹرول حاصل ہے۔
ٹرمپ نے کہا کہ ایران معاہدے میں دلچسپی رکھتا ہے، تاہم ابھی تک امریکہ کی مطلوبہ شرائط پر اتفاق نہیں کیا ہے۔ ان کے مطابق ایران معاہدہ کرنا چاہتا ہے، لیکن ان کی رائے میں وہ صحیح معاہدے کے لیے ابھی تیار نہیں ہے۔
ان کے یہ بیانات ایسے وقت آئے ہیں جب واشنگٹن اور تہران کے درمیان کشیدگی برقرار ہے۔ ٹرمپ نے حال ہی میں ایران کے خلاف اپنی کارروائی کو ’’اب تک کی سب سے شدید اقتصادی کارروائی‘‘ قرار دیتے ہوئے تہران کو مالی، کاروباری یا حکومتی مدد فراہم کرنے والے ممالک کو سنگین اقتصادی نتائج کی وارننگ دی تھی۔
ٹرمپ کے مطابق ان اقدامات کا ہدف ایران کی اقتصادی سرگرمیوں کی اہم کڑیاں ہیں، جن میں تیل کی اسمگلنگ کے نیٹ ورک، مالیاتی منتقلی، ایکسچینج ہاؤسز، جہازوں کی رجسٹریاں اور فرضی کمپنیوں کے نیٹ ورک شامل ہیں۔
