این ایس یو آئی کے قومی میڈیا انچارج روی پانڈے نے منگل کے روز کہا کہ دہلی یونیورسٹی تعلیم، مباحثہ اور جمہوری اختلافِ رائے کا مرکز ہے، نہ کہ تشدد اور غنڈہ گردی کا۔ انہوں نے کہا کہ ماضی میں بھی پروفیسروں کے ساتھ مبینہ بدسلوکی کے واقعات سامنے آئے ہیں، جن میں طلبہ نمائندوں کے کردار پر سوال اٹھے تھے۔ مسٹر پانڈے نے کہا کہ یونیورسٹی میں بات چیت، جمہوری اقدار اور باہمی احترام کا ماحول ہونا چاہیے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ لاء سینٹر-2 کے واقعے کی غیر جانبدارانہ جانچ کر کے قصوروار پائے جانے والے ہر شخص کے خلاف تنظیم یا سیاسی وابستگی سے بالاتر ہو کر سخت کارروائی کی جائے۔
انہوں نے کہا کہ آئندہ ڈی یو ایس یو (ڈوسو) انتخابات میں طلبہ ڈر اور دباؤ کی سیاست کو مسترد کر کے بات چیت، وقار اور جمہوریت کا انتخاب کریں گے۔ این ایس یو آئی نے کہا کہ وہ یونیورسٹی میں 'محبت کی دکان' قائم کرنے کے لیے کام کرے گی۔
