پی ایم کیئرز کی ویب سائٹ پر جاری کردہ آڈٹ رپورٹ کے مطابق، 31 مارچ 2025 کو ختم ہونے والے مالی سال میں فنڈ میں ملکی عطیہ دہندگان نے 479 کروڑ روپے کا چندہ دیا۔ بیرونِ ملک سے فنڈ کو 92.83 لاکھ روپے کا عطیہ ملا۔ ملکی چندے کے بعد سب سے زیادہ آمدنی بینک کھاتوں میں جمع فنڈ کی رقم پر سود کے طور پر ہوئی ہے۔ سود سے کل آمدنی 475 کروڑ روپے رہی۔ اس میں فکسڈ ڈپازٹ (ایف ڈی) کھاتوں سے 469 کروڑ روپے کا سود ملا، جبکہ بچت کھاتوں سے 5.77 کروڑ روپے کا سود حاصل ہوا۔
ممبئی کی آڈٹ فرم کے کے سی اینڈ ایسوسی ایٹس ایل ایل پی نے یہ آڈٹ رپورٹ تیار کی ہے۔ مالی سال کے آغاز میں پی ایم کیئرز فنڈ کے پاس بینکوں میں کل 7,173 کروڑ روپے کی رقم موجود تھی۔ اس میں 531 کروڑ روپے بچت کھاتوں میں اور 6,642 کروڑ روپے فکسڈ ڈپازٹ کھاتوں میں تھے۔ پی ایم کیئرز فنڈ سے مختلف کاموں کے لیے جن ایجنسیوں کو پیسے دیے گئے تھے، انہوں نے ان میں سے 325 کروڑ روپے فنڈ کو واپس لوٹا دیے۔ تاہم آڈٹ رپورٹ میں اس کی تفصیلی معلومات یا وجہ نہیں دی گئی ہے۔
وہیں، مالی سال کے دوران پی ایم کیئرز سے بچوں کی اسکیموں کے لیے 87.85 کروڑ روپے جاری کیے گئے۔ بینک چارجز اور ایس ایم ایس چارجز کے طور پر 451 روپے خرچ ہوئے۔
مالیاتی سال 2024-25 کے اختتام پر پی ایم کیئرز میں 8,452 کروڑ روپے موجود تھے۔ ان میں 7,847 کروڑ روپے فکسڈ ڈپازٹ کھاتوں میں اور 605 کروڑ روپے بچت کھاتوں میں تھے۔ کل جمع رقم میں 1,279 کروڑ روپے کا اضافہ ہوا ہے۔
قابلِ ذکر ہے کہ کورونا کے دور میں وزیراعظم قومی امدادی فنڈ سے الگ تشکیل دیے گئے اس فنڈ کےتعلق سے سیاسی تنازع مسلسل جاری ہے۔ اپوزیشن اسے سرکاری آڈیٹر کیگ (سی اے جی) کے دائرے میں لانے کا مطالبہ کرتی رہی ہے۔
وزیراعظم پی ایم کیئرز فنڈ کے بربنائے عہدہ چیئرمین ہوتے ہیں۔ وہیں، وزیرِ دفاع، وزیرِ داخلہ اور وزیرِ خزانہ حکومت کی طرف سے فنڈ کے بربنائے عہدہ ٹرسٹیز ہیں۔ وزیراعظم نے پی ایم کیئرز فنڈ کے بورڈ آف ٹرسٹیز کے چیئرمین کی حیثیت سے ریٹائرڈ جسٹس کے ٹی تھامس اور سابق رکنِ پارلیمنٹ کریا منڈا کو ٹرسٹی نامزد کیا ہے۔
