مسٹر گاندھی نے کہا کہ حکومت کے وزیر کہہ رہے ہیں کہ "دہلی پولیس کی تعریف کرنی چاہیے"، لیکن پارلیمنٹ سے محض آدھا کلومیٹر دور پرامن احتجاج کرنے والے طلبہ پر مبینہ طور پر پیلٹ گن اور کیل لگی لاٹھیوں کا استعمال کیا گیا۔ اس کارروائی میں ایک بچے کی آنکھ چلی گئی اور ایک بچی کا کان کٹ گیا۔ انہوں نے سوال کیا کہ "کیا اس بربریت کی تعریف ہونی چاہیے؟" انہوں نے کہا کہ وہ خود زخمی طلبہ سے ملے ہیں اور ملک نے اس واقعے سے جڑی ہزاروں ویڈیوز دیکھی ہیں۔
انہوں نے الزام لگایا کہ مودی حکومت کا بنیادی منتر "جھوٹ اور تشدد" ہے۔ انہوں نے کہا کہ پہلے بچوں پر لاٹھیاں چلاؤ اور پھر کہہ دو کہ کچھ ہوا ہی نہیں۔ انہوں نے مرکزی وزیرِ داخلہ امت شاہ کوبھی نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ پورے سیشن میں مسٹر شاہ "لاپتہ" رہے اور اپوزیشن سے بھاگتے رہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ وزیرِ اعظم نے اب تک طلبہ سے معافی نہیں مانگی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک کے بچوں سے جھوٹ نہیں بولنا چاہیے، کیونکہ "ان کے پاس آنکھیں ہیں اور یادداشت بھی۔"
قابلِ ذکر ہے کہ ایک انٹرویو میں مرکزی وزیرِ برائے پارلیمانی امور کیرن رجیجو نے کہا تھا کہ طلبہ کے احتجاج کے دوران "ایک بھی شخص کو چوٹ نہیں آئی۔ کسی ایک شخص کی بھی ہڈی نہیں ٹوٹی۔ یہاں تک کہ ایک بھی مظاہرین شدید چوٹ کے ساتھ ہسپتال میں داخل نہیں ہے۔"
