بی بی سی کی ایک رپورٹ کے مطابق امریکہ اور عمان دونوں ہی تہران کے ساتھ الگ الگ بات چیت کر رہے ہیں تاکہ آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولا جا سکے۔ یہ آبی گزرگاہ عالمی معیشت کے لیے انتہائی اہم ہے۔ امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی کے دوران یہ راستہ تقریباً چھ ماہ سے زائد عرصے سے بند رہا ہے۔ 'فاکس' کے ایک رپورٹر نے بتایا کہ امریکی صدر نے عمان کو یہ دھمکی ایک فون انٹرویو کے دوران سخت الفاظ استعمال کرتے ہوئے دی۔
اس سے قبل دن میں ایرانی حکام نے کہا تھا کہ وہ عمان کے ساتھ ایک معاہدے کو حتمی شکل دینے کے قریب ہیں۔ دوسری جانب امریکہ اور ایران کے درمیان بات چیت کا مستقبل غیر یقینی ہے کیونکہ دونوں فریقوں کے درمیان 60 روزہ مفاہمت کی یادداشت (ایم اویو) ختم ہونے کو ہے۔ پیر کے روز اوول آفس میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے، جب بی بی سی نیوز نے ٹرمپ سے پوچھا کہ کیا وہ ایم او یو کی مدت میں توسیع کرنا چاہتے ہیں، تو انہوں نے جواب دیا: "نہیں۔"
فروری میں امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملے کے بعد سے، تہران نے کافی حد تک آبنائے ہرمز کو بند کر دیا ہے، جہاں سے عام طور پر دنیا کا تقریباً پانچواں حصہ تیل اور مائع قدرتی گیس گزرتی ہے۔ اسے دوبارہ کھولنا مذاکرات کا ایک اہم موضوع رہا ہے۔
عمان اس آبنائے کے جنوبی حصے سے متصل ہے اور اس کا کہنا ہے کہ وہ اس تنازع میں ایک غیر جانبدار ملک ہے۔ تاہم، اسے ایران کی جانب سے متعدد حملوں کا سامنا کرنا پڑا ہے اور اب وہ اس آبی گزرگاہ کو دوبارہ کھولنے کے لیے تہران کے ساتھ بات چیت میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔
واشنگٹن نے بھی اسے دوبارہ کھلوانے کے لیے اپنی کوششیں کی ہیں۔ فاکس کے رپورٹر ٹرے ینگسٹ نے ٹرمپ کے حوالے سے بتایا، "اگر عمان راستے میں آیا، تو ہم ان پر شدید بمباری کریں گے۔" یہ واضح نہیں ہے کہ ٹرمپ کے مطابق ڈیل کی خواہشات کے راستے میں آنے کا کیا مطلب ہے۔
فاکس کے ساتھ اسی انٹرویو کے دوران، ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ امریکہ کا ایران میں ایک بڑی فوجی، اقتصادی اور سیاسی قوت '، اسلامی انقلابی گارڈ کور (آئی آرجی سی) کے ساتھ براہ راست بیک چینل رابطہ ہے۔ تاہم ایک ترجمان نے ایران کی نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی 'تسنیم نیوز' کو بتایا، "آئی آر جی سی کے حکام اور امریکیوں کے درمیان کوئی بات چیت نہیں ہو رہی ہے۔ ٹرمپ کا یہ جھوٹ صرف ان کے وہم اور برے خوابوں کا نتیجہ ہے، جو انہیں جنگ میں شکست اور مایوسی کی وجہ سے ہوئے ہیں۔"
مشرق وسطیٰ کے ایک نقشے میں اسرائیل، سعودی عرب، قطر، متحدہ عرب امارات (یو اے ای)، عمان اور ایران دکھائے گئے ہیں۔ اس میں خلیج اور آبنائے ہرمز کو نشان زد کیا گیا ہے، جو ایران اور عمان کے درمیان اس تنگ آبی گزرگاہ کو دکھاتا ہے جو خلیج کو خلیجِ عمان سے جوڑتی ہے۔
ٹرمپ نے عمان کو یہ دھمکی اس وقت دی جب ایران نے کہا تھا کہ دونوں ممالک کے درمیان اس آبنائے سے جہازوں کے گزرنے کو لے کر معاہدہ ہو گیا ہے۔
ایران کے دفتر خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے صحافیوں کو بتایا کہ "ٹرانزٹ روٹ کے نقشے پر اتفاق رائے ہو گیا ہے"۔ انہوں نے کہا کہ مشترکہ بیان جاری کرنے سے پہلے دونوں فریق تفصیلات کو حتمی شکل دیں گے۔ عمان نے اس سے قبل ہی اس بات چیت کو مثبت قرار دیا ہے۔
