Masarrat
Masarrat Urdu

المیہ رونما ہونے سے پہلے ایران کے ساتھ محاذ آرائی سے نکلنا ہوگا، مستعفی امریکی افسر

  • 17 Aug 2026
  • مسرت ڈیسک
  • دنیا
Thumb

واشنگٹن، 17 اگست (مسرت ڈاٹ کام) امریکہ کے نیشنل کاؤنٹر ٹیررازم سینٹر کے سابق سربراہ نے خبردار کیا ہے کہ ٹرمپ نے امریکی فوجیوں کو ایران کے میزائلوں اور ڈرونز کی زد میں رکھا ہوا ہے، اس لیے کسی بڑے سانحے کے رونما ہونے سے پہلے ایران کے ساتھ محاذ آرائی سے نکل جانا چاہیے۔

مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، امریکہ کے نیشنل کاؤنٹر ٹیررازم سینٹر کے سابق سربراہ جو کونٹ نے ایران کے حوالے سے واشنگٹن کی پالیسی پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ موجودہ صورتحال صدر ٹرمپ کو اس انتخاب پر مجبور کرسکتی ہے کہ وہ دوبارہ کسی تنازع میں الجھیں یا شکست کے ساتھ پسپائی اختیار کریں۔

جو کنٹ نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنے پیغام میں لکھا کہ 2020 میں صدر ٹرمپ نے طالبان کے ساتھ دانشمندانہ طور پر ایک معاہدہ کیا تھا، جس کے تحت ہماری افواج کو اپریل یا مئی 2021 میں افغانستان سے نکلنے کی اجازت تھی۔ جب بائیڈن نے اقتدار سنبھالا تو انہوں نے ہماری افواج کو 11 ستمبر کے حملوں کی 20 ویں برسی تک افغانستان میں رکھنے کا فیصلہ کیا، کیونکہ وہ اپنی شرائط کے مطابق ایک علامتی انخلا چاہتے تھے اور اس کے پیچھے ان کے احساس برتری کو پورا کرنے کے علاوہ کوئی حقیقی وجہ نہیں تھی۔

سابق امریکی عہدیدار نے مزید کہا کہ اب ہم دیکھ رہے ہیں کہ صدر ٹرمپ ایران کے معاملے میں اپنے لیے اسی طرح کا جال تیار کر رہے ہیں۔ ٹرمپ جانتے ہیں کہ یہ جنگ، یعنی ایران کے خلاف امریکہ کی غیر قانونی جارحیت، کوئی فوجی حل نہیں رکھتی اور ایرانیوں نے دھمکیوں اور بار بار کی بدعہدی کے ساتھ کی جانے والی سفارت کاری کو بھی مسترد کر دیا ہے۔

جو کنٹ نے کہا کہ صدر ٹرمپ نے امریکی فوجیوں کو ایران کے میزائلوں اور ڈرونز کی زد میں رکھا ہوا ہے، اس تصور کے ساتھ کہ ہم دوبارہ تنازع شروع ہونے کے وقت کو کنٹرول کرسکتے ہیں۔ بائیڈن بھی یہ سمجھتے تھے کہ وہ افغانستان میں طالبان کو اس وقت تک ہم پر حملہ کرنے سے روک سکتے ہیں جب تک وہ اپنے مطلوبہ نتائج حاصل نہ کر لیں، جبکہ اس دوران ہماری افواج کو افغانستان میں خطرے سے دوچار رکھا گیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ طالبان نے اپنے وعدوں پر عمل نہیں کیا، جس کے نتیجے میں ہم نے اپنے 13 بہترین فوجیوں کو کھو دیا اور بالآخر جانی نقصان اور رسوائی برداشت کرتے ہوئے ایسی جنگ سے پسپائی اختیار کی جسے ختم کرنے کا فیصلہ ہم ایک سال پہلے ہی کر چکے تھے۔

جو کنٹ نے مزید کہا کہ صدر ٹرمپ کو 2021 میں بائیڈن کے غرور اور اس بات پر غور کرنا چاہیے کہ ہم اب ایران کے معاملے میں وہی غلطیاں کیسے دہرا رہے ہیں۔

انہوں نے تاکید کی کہ امریکی فوجیوں کو ایران کی زد میں رکھنا ایران کو برتری فراہم کرتا ہے اور یہ صورتحال ہمیں ایران کی شرائط پر دوبارہ جنگ میں دھکیل سکتی ہے۔

جو کنٹ نے کہا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ کسی بڑے سانحے کے رونما ہونے سے پہلے اس صورتحال سے نکل جایا جائے۔ انہوں نے تاکید کی کہ اس صورتحال میں رہنے سے کوئی فتح حاصل نہیں ہوگی، لہذا ابھی نکل جائیں، اس جال سے دور رہیں اور کھیل کے قواعد ازسرنو طے کریں۔

Ads