انہوں نے مسٹر سورین سے احتجاج کرنے والے طلبہ کے نمائندوں سے ذاتی طور پر ملاقات کر کے ان کے مسائل سننے اور ان کے ازالے کے لیے مناسب اقدامات کرنے کی اپیل کی ہے۔
راہل نے اپنے خط میں کہا ہے کہ جھارکھنڈ کے طالب علم ریاست کے بھرتی امتحانات میں بے ضابطگیوں کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں۔ ان کا احتجاج پرامن ہے اور ان کے مطالبات جائز ہیں۔ ریاستی حکومت نے وزیر اعلٰی کی طرف سے تشکیل دی گئی کمیٹی کے ذریعے طالب علموں سے بات چیت شروع کی ہے اور کئی مطالبات پر اتفاقِ رائے بھی ہوا ہے۔ اس کے باوجود احتجاج جاری ہے اور کچھ طالب علم غیر معینہ مدت کے لیے بھوک ہڑتال پر ہیں۔
کانگریس رہنما نے کہا، "میں تجویز دینا چاہتا ہوں کہ آپ ذاتی طور پر مظاہرین کے نمائندوں سے ملاقات کریں۔ اس سے ان کے باقی خدشات کے حل کے لیے حکومت کے عزم کو مزید تقویت ملے گی۔"
انہوں نے کہا کہ ہندوستان کے نوجوان ملک کا مستقبل ہیں اور ایسے بحران کے وقت ان کے ساتھ یکجہتی اور حمایت میں کھڑا ہونا ہماری ذمہ داری ہے۔ انہوں نے وزیر اعلٰی سے طالب علموں کی بات سننے اور اس مسئلے کے حل کے لیے ضروری کارروائی کرنے کی اپیل کی۔
راہل گاندھی نے خط میں کہا ہے کہ کانگریس آئین میں درج پرامن احتجاج کے حق کو جمہوریت کا ایک مرکزی ستون مانتی ہے اور گزشتہ کچھ مہینوں سے پیپر لیک اور تعلیمی نظام میں بے ضابطگیوں کے خلاف احتجاج کرنے والے طلبہ کی مکمل حمایت کر رہی ہے۔
انہوں نے الزام لگایا کہ ملک کے تعلیمی نظام کو آر ایس ایس اور بی جے پی نے اپنے قبضے میں لے کر طلبہ کے استحصال اور جبر کا ذریعہ بنا دیا ہے اور یہ ایک دہائی پہلے جیسا مضبوط تعلیمی نظام نہیں رہا ہے۔
