ایران کے سرکاری ٹیلی ویژن سے بات کرتے ہوئے عراقچی نے امریکہ کے ساتھ رابطوں اورآبنائے ہرمز کے حوالے سے بیان دیا۔
فریقین کے درمیان ثالثوں کے ذریعے پیغامات کے تبادلے کے جاری رہنے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے عراقچی نے کہا، "اس وقت ہم امریکہ کے ساتھ کسی بات چیت میں نہیں ہیں۔ ثالثوں کے ذریعے پیغامات کا تبادلہ ہو رہا ہے مگر اسے مذاکرات کہنا درست نہیں۔"
عراقچی نے کہا کہ ثالث دوبارہ باہمی سمجھ بوجھ کی بنیاد قائم کرنے کے لیے کوششیں جاری رکھے ہوئے ہیں اور مذاکرات کے دوبارہ شروع ہونے کے لیے امریکہ کو متفقہ معاہدے کی خلاف ورزیوں کے حوالے سے اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرنا ہوگا۔
عباس عراقچی نے کہا، "جب تک مفاہمت ِیادداشت کی خلاف ورزیاں ختم نہیں ہوتیں اور امریکہ نے متفقہ معاہدے کی خلاف ورزیوں کا ازالہ نہیں کیا، مذاکرات کے دوبارہ شروع ہونے کا امکان ممکن نہیں۔"
ہرمز کے سلسلے میں عمان کے ساتھ جاری مذاکرات کے بارے میں عراقچی نے اعادہ کیا اس ملک کے ساتھ کسی معاہدے تک پہنچ جانا اس بات کی ضمانت نہیں کہ آبنائے ہرمز دوبارہ کھل جائے گی۔اس کے لیے دیگر شرائط بھی پوری ہونی چاہئیں۔ یہ شرائط ثالثوں کے ذریعے امریکی فریق تک پہنچا دی گئی ہیں۔"
