جاری ریلیز کے مطابق دورانِ سماعت سرکاری وکیل نے جواب داخل کرنے کے لیے مزید وقت طلب کیا، جسے عدالت نے منظور کر لیا۔ جمعیۃ علما ہند کی جانب سے پیش سینئر وکیل کپل سبل نے عدالت کو بتایا کہ نوٹس جاری ہونے کے باوجود مرکزی اور ریاستی حکومتوں نے ابھی تک اپنا جواب داخل نہیں کیا ہے اور اب انہیں اپنا اعتراض اور جواب عدالت کے سامنے پیش کرنا ہوگا۔ سینئروکیل کپل سبل نے عدالت کو مزید بتایا کہ رجسٹرار جنرل آف انڈیا کی جانب سے جمعیۃ علما ہند کی پٹیشن پر جواب داخل کیا جا چکا ہے، جس کے جواب میں جمعیۃ علما ہند کی جانب سے جلد ری جوائنڈر داخل کیا جائے گا۔ انہوں نے عدالت کی توجہ اس اہم حقیقت کی طرف بھی مبذول کرائی کہ حتمی این آر سی کی اشاعت کے چھ سال گزر جانے کے باوجود اس میں شامل افراد کو اب تک نیشنل شناختی کارڈ جاری نہیں کیے گئے ہیں۔
سپریم کورٹ کی آج کی کارروائی پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے صدر جمعیۃ علما ہند مولانا ارشد مدنی نے کہا کہ مرکزی اور آسام حکومتوں کا نوٹس کے باوجود جواب داخل نہ کرنا اور حتمی این آر سی کے چھ سال بعد بھی قانونی عمل کو مکمل نہ کرنا اس شبہ کو تقویت دیتا ہے کہ شہریت کے اس حساس مسئلے کو سیاسی فائدے کے لیے دانستہ طور پر زندہ رکھا جا رہا ہے۔مولانا مدنی نے کہاکہ ماضی میں اس حساس مسئلہ کو لیکر آسام میں فرقہ پرست طاقتیں مسلمانوں کو غیر ملکی قراردیکر اکثریت کی نگاہ میں ان کی حیثیت کو مشکوک بناتی رہی ہیں جس کی وجہ وہاں سماجی سطح پر ہمیشہ فرقہ وارانہ کشیدگی پائی جاتی رہی ہے ، پنچائیت سرٹیفکیٹ کو تبدیل کرنے کا معاملہ ہو، شہریت کے لئے حتمی تاریخ کے تعین کامعاملہ ہویا پھر ریاست میں مدارس کو بند کرنے کی سازش جمعیۃعلمائ ہند ہر ایسے موقع پر مظلوموں کے ساتھ پوری طاقت سے کھڑی رہی اوران کے مقدمات کامیابی کے ساتھ لڑتی آئی ہے ۔
مولانا مدنی نے مزید کہا کہ بی جے پی کی موجودہ ریاستی حکومت امتیاز اورنفرت کی سیاست اورمسلم مخالف ایجنڈے پر عمل پیراہے اورسیاسی فائدہ کے لئے وہ شہریت کے مسئلہ کو بدستورزندہ رکھنا چاہتی ہے ، یہی وجہ ہے کہ حتمی این آرسی کے بعد بھی لوگوں کو شناختی کارڈجاری کرنے میں دانستہ چھ سال سے ٹال مٹول سے کام لے رہی ہے ۔ انہوں نے آگے کہا کہ آسام میں این آر سی کے عمل کو قانون کے مطابق مکمل کرنا ریاست میں امن اور ہم آہنگی کی بحالی کے لئے نہایت ضروری ہے اور یہ مساوات، اخوت اور قانون کی حکمرانی جیسے آئینی اصولوں کے تحفظ کے لیے ناگزیر ہے۔
واضح رہے کہ صدرجمعیۃعلما ہند مولانا ارشدمدنی کی رہنمائی اورسرپرستی میں مولانا مشتاق عنفرصدرجمعیۃعلما آسام ، این آرسی اورپنچائیت سرٹیفکیٹ 6Aجیسے اہم مقدمات 14سال سے لڑتی رہی اورکامیابی بھی ملی کیونکہ آسام کا مسئلہ ایک حساس مسئلہ تھا اگر فرقہ پرست عناصراپنے مقصدمیں کامیاب ہوجاتے توایک اندازہ کے مطابق لاکھوں مسلمانوں کے شہریت کو خطرہ لاحق ہوسکتاتھا ، آج سپریم کورٹ میں مولانا مشتاق عنفرصدرجمعیۃعلما آسام، مولانا کلیم الدین ، آمسوکے صدرودیگر عہدیداران موجودرہے ۔واضح رہے کہ آسام کے سابق این آر سی کوآرڈینیٹر ہتیش دیو شرما کی اُس عرضی کو بھی اس معاملے کے ساتھ منسلک کر دیا گیا ہے، جس میں این آر سی فہرست کی ازسرِ نو تصدیق (Re-verification) اس میں موجود خامیوں اور غلطیوں کو دور کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
قابل ذکر ہے کہ آسام این آر سی کو 2013 سے 2019 تک سپریم کورٹ کی براہِ راست نگرانی میں مکمل کیا گیا۔ رجسٹراڈ جنرل آف انڈیا اور ریاستی کوآرڈینیٹر کی جانب سے مشترکہ طور پر شائع شدہ حتمی این آر سی برسوں کی باریک بینی سے معلومات کی موازنہ کی بنیاد پر کی گئی 3.3 کروڑ درخواستوں کی جانچ پڑتال کا نتیجہ ہے۔ اس کا مقصد آسام میں شہریت کے دہائیوں پرانے مسئلے کا قانونی اور حتمی حل فراہم کرنا تھا۔تاہم، حتمی این آر سی کے شائع ہونے کے چھ سال سے زیادہ عرصہ گزر جانے کے باوجود، حکام اب تک قانون کے تحت لازمی اقدامات کرنے میں ناکام رہے ہیں، یعنی تین کروڑ گیارہ لاکھ مستحق شہریوں کو نیشنل شناختی کارڈز جاری کرنا، جیسا کہ شہریت (شہریوں کا اندراج اور نیشنل آئیڈنٹیٹی کارڈز کا اجرا) قواعد، 2003 کے قاعدہ 13 کے تحت لازم ہے اورمسترد شدہ افراد (تقریباً 19 لاکھ) کو ریجیکشن سلپس جاری کرنا اور اپیل کا آغاز کرنا ،جیسا کہ قاعدہ 4A کے شیڈول کے پیرا 8 میں درج ہے۔
درخواست میں کہا گیا ہے کہ حکام کی یہ ناکامی این آر سی کے اس پورے عمل کو نامکمل، غیرآئینی، من مانا اور آئین کے آرٹیکل 14 اور 21 کی خلاف ورزی بناتی ہے، حتمی این آر سی کی اشاعت کے بعد اسے معطل چھوڑ دینا ایک بڑی آبادی کوغیر یقینی شہریوں کی حیثیت میں مبتلا کر رہا ہے، جس سے خوف، بداعتمادی اور سماجی تقسیم میں اضافہ ہوا ہے۔درخواست میں اس بات پربھی زور دیا گیا ہے کہ آسام این آر سی ایک سائنسی، ڈیٹا پر مبنی اور ثبوت سے تصدیق شدہ عمل ہے، جو سپریم کورٹ کی براہِ راست نگرانی میں انجام پایاہے۔ عوامی اعتماد، عدالتی وقت اور 1600 کروڑ روپے سے زائد قومی وسائل صرف کئے جانے کے بعد، یہ ضروری ہے کہ اس عمل کو شہریت ایکٹ 1955 اور اس کے تحت بنائے گئے قواعد کے مطابق مکمل کیا جائے۔درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ حتمی این آر سی میں شامل تمام افراد کو فوراً نیشنل شناختی کارڈز جاری کئے جائیں اورجن افراد کو این آر سی سے خارج کیا گیا ہے، ان کے لیے ریجیکشن سلپس ßآرڈرز جاری کئے جائیں اور اپیل کا عمل شروع کیا جائے تاکہ غیر ملکی ٹربیونلزکے سامنے قانونی فیصلے ممکن ہو سکیں۔
