ایرانی فوج کے ترجمان نے سرکاری ٹی وی کو بتایا ہے کہ جنگ بندی کے ہر لمحے سے بھرپور فائدہ اٹھاتے ہوئے موجودہ ہتھیاروں کو جدید بنایا گیا، نئے دفاعی نظام تیار کیے گئے، نقصان زدہ تنصیبات بحال کی گئیں اور نئی ٹیکنالوجی پر کام تیز کیا گیا۔
ترجمان ایرانی فوج کے مطابق نئی نسل کے ڈرون بھی جنگ میں استعمال کیے گئے جن کی تفصیلات بعد میں جاری کی جائیں گی۔
عرب میڈیا کے مطابق ایرانی قائم مقام وزیرِ دفاع کا کہنا ہے کہ میزائل اور ڈرون کی پیداوار ایک دن بھی نہیں رُکی جبکہ ڈرون کی پیداوار جنگ سے پہلے کے مقابلے میں 3 گنی تک ہوگئی۔
ان کا کہنا ہے کہ اعلیٰ فوجی کمانڈروں کی شہادتوں کے باوجود ایرانی افواج نے اپنی تنظیم برقرار رکھی اور نئی حکمتِ عملی سے دشمن کو حیران کیا۔
پاسدارانِ انقلاب کے ترجمان نے بھی دعویٰ کیا ہے کہ جنگ بندی کے دوران میزائل سازی کی رفتار اور میزائلوں کی درستگی میں مزید بہتری آئی، تاہم اسلحے کے ذخائر یا جنگی نقصانات کی تفصیلات جاری نہیں کی گئیں۔
امریکی میڈیا کی رپورٹس میں بھی دعویٰ کیا گیا ہے کہ ایران کے پاس جنگ سے پہلے کے میزائل کے ذخیرے کا تقریباً 70 فیصد اور ڈرونز کا 40 فیصد حصہ اب بھی موجود ہے جس سے وہ طویل عرصے تک غیر روایتی جنگ جاری رکھنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
عرب میڈیا کا دعویٰ ہے کہ ایران کو جَلد چین میں تیار کردہ 400 کندھے پر رکھ کر فائر کیے جانے والے فضائی دفاعی میزائل مل سکتے ہیں تاہم چین اور پاکستان نے اس خبر کی تردید کی ہے جبکہ ایران نے کوئی تبصرہ نہیں کیا۔
عرب میڈیا کی رپورٹ کے مطابق سابق ایرانی فوجی کمانڈر نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا اور اسرائیل کے ہزاروں حملے بھی ایران کی عسکری صلاحیت کو ختم نہیں کر سکے۔
ان کا کہنا ہے کہ میزائلوں کی ہدف تک پہنچنے اور تباہ کرنے کی صلاحیت اور مقامی دفاعی پیداوار میں مسلسل اضافہ کیا جا رہا ہے جبکہ زیرِ زمین میزائل اور ڈرون مراکز سے نئے ہتھیار آپریشنل نظام میں شامل کیے جا رہے ہیں۔
ادھر یمن کے حوثیوں نے سعودی عرب کے نجران ہوائی اڈے پر ڈرون حملے کا دعویٰ کیا ہے جبکہ بحیرۂ احمر میں ایک مال بردار جہاز پر حملے کے بعد تمام 14 ملاحوں کو بحفاظت نکال لیا گیا ہے۔
واضح رہے کہ خطے میں کشیدگی برقرار ہے، عمان اور آبنائے ہرمز کے اطراف بھی بحری جہازوں پر حملوں اور سیکیورٹی خدشات کے باعث صورتِ حال بدستور کشیدہ ہے۔
