چیف جسٹس سوریہ کانت نے کہا کہ حکومت کی طرف سے حد سے زیادہ کارروائی سے صورتِ حال بگڑ سکتی ہے۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ مظاہرین نوجوان طالب علم ہیں، جنہیں مشاورت اور اس بات کی یقین دہانی کی ضرورت ہے کہ ان کی بات سنی جا رہی ہے۔ چیف جسٹس نے پولیس سے ضبط و تحمل برتنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ معاملے کو بڑھانے کے بجائے طالب علموں کو سمجھا کر پرسکون کرنا زیادہ بہتر طریقہ ہے۔
دوسری طرف، درخواست گزار نے طلبہ مظاہرین کے خلاف درج مقدمات واپس لینے کی مخالفت کی اور دلیل دی کہ سیاسی بنیادوں پر جین زی طلبہ مظاہرین کے خلاف مجرمانہ مقدمات کو واپس لینے کی اجازت نہ دی جائے اور خبردار کیا کہ یہ مستقبل کی تحریکوں کے لیے ایک خطرناک مثال قائم کرے گا۔ منیش کمار سولنکی کی درخواست پر بدھ کے روز سپریم کورٹ میں سماعت ہوئی۔ اس میں درخواست گزار کی جانب سے پیش ہونے والے ایڈووکیٹ رضوان احمد نے احتجاج کے منتظمین کی بھی جواب دہی طے کرنے کا مطالبہ کیا۔
درخواست گزار نے کہا، "کل جین الفا، بیٹا، ڈیلٹا آئے گی۔" انہوں نے دلیل دی کہ حال ہی میں طلبہ کی تحریکوں کے دوران درج ہنگامے کے مقدمات کو صرف سیاسی سمجھوتے کی بنیاد پر واپس لینے سے مستقبل میں بھی ایسے ہی مظاہروں کو شہ ملے گی۔ چیف جسٹس سوریہ کانت، مسٹر جسٹس جوئے مالیا باگچی اور جسٹس وی موہنا کے بنچ نے اس درخواست کو طالب علموں کے احتجاج سے متعلق مقدمات کے ساتھ ٹیگ کر دیا۔ تین اگست کو عدالت نے واضح کیا تھا کہ مجاز حکام قانون کے مطابق مظاہرین کے خلاف درج ایف آئی آر واپس لے سکتے ہیں۔
درخواست گزار نے دلیل دی کہ جہاں مظاہروں میں وزیر اور پولیس سے جواب دہی مانگی گئی تھی، وہیں منتظمین تحقیقات کے دائرے سے بچ نکلے۔ انہوں نے بنچ کے سامنے التماس کیا، "پندرہ دن گزر چکے ہیں۔ منتظمین کی جواب دہی کا کیا؟ وہ ایک کے بعد دوسرے چینل پر جا کر اشتعال انگیز بیانات دے رہے ہیں اور صورتحال کو معمول پر لانے سے انکار کر رہے ہیں۔" ایڈووکیٹ رضوان احمد نے طالب علم مظاہرین کے خلاف مجرمانہ مقدمات کی واپسی کی مخالفت کرتے ہوئے دلیل دی کہ منتظمین کو بھی جواب دہ ٹھہرایا جانا چاہیے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اس طرح کے اقدام سے مستقبل میں ایسی تحریکوں کو شہ ملے گی۔ انہوں نے غیر شائستہ نعرے بازی میں ملوث نابالغوں کے لیے نگرانی میں کمیونٹی سروس کی تجویس دی، لیکن کہا کہ تشدد کے ملزمین کو بخشا نہیں جانا چاہیے۔
