مسٹر گاندھی نے بدھ کے روز 10 جنپتھ کے باہر ملک کے مختلف حصوں سے آئے ان مظاہرین کے ساتھ صحافیوں سے خطاب کیا جن کا الزام ہے کہ تحریک میں شامل ہونے کی وجہ سے ان کو ڈرایا اور دھمکایا جا رہا ہے۔ انہوں نے ان نوجوانوں سے بات چیت کی ہے اور ان کی تکلیف کو سمجھا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ یہ نوجوان ملک کی مختلف ریاستوں سے آئے ہیں اور سبھی نے بتایا کہ انہوں نے کسی قسم کا تشدد نہیں کیا، لیکن ان کے ساتھ مسلسل تشدد، دھمکی اور ہراسانی ہو رہی ہے۔
کانگریس رہنما نے کہا، "جب کسی شہری کے ساتھ ناانصافی ہوتی ہے تو اس کی مدد کرنا ہمارا فرض ہے۔ خواتین کے گھروں میں غنڈے بھیجے جا رہے ہیں اور ان پر زبردستی غلطی تسلیم کرنے کا دباؤ بنایا جا رہا ہے۔ آج یہ نوجوان ملک کے پریس کے سامنے ہیں، لیکن امت شاہ پارلیمنٹ کے سامنے نہیں آ سکتے۔ اگر وہ پارلیمنٹ میں نہیں آ رہے ہیں تو اس کی دو ہی وجہ ہیں، یا تو وہ جانتے ہیں کہ طلبہ کے خلاف ہوئی کارروائی کے لیے وہی ذمہ دار ہیں یا پھر وہ جواب دینے سے بچ رہے ہیں۔"
ممبئی سے آئی محترمہ ریا اہیر نے الزام لگایا کہ انہیں مسلسل ہراساں کیا جا رہا ہے اور ان کے خلاف ایف آئی آر درج کی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ طالبات کو نہ پڑھنے دیا جا رہا ہے اور نہ ہی انہیں محفوظ ماحول مل رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ پولیس کی گاڑی کے سامنے آئی تھیں اور ان کا یہ ویڈیو خوب چلایا جا رہا ہے۔
جھارکھنڈ کی محترمہ نوتن نے دعویٰ کیا کہ احتجاج کے دوران ان کے سامنے پیلٹ گن چلائی گئی تھی اور گولی ان کے کان کے بغل سے سنسناتی ہوئی نکلی ہے۔ اتر پردیش کی محترمہ فرح ناز نے الزام لگایا کہ پولیس نے مظاہرین کے ساتھ غنڈوں جیسا برتاؤ کیا، جبکہ وہ پرامن طریقے سے اپنے حقوق کا مطالبہ کر رہے تھے۔
ناگپور سے آئے بھرت بھائی نے الزام لگایا کہ طالب علموں پرظالمانہ کارروائی کی گئی اور انہوں نے کئی طالب علموں کو خون میں لت پت دیکھا۔ وہیں محترمہ مسکان نے الزام لگایا کہ پرامن مارچ کے دوران ایک مرد پولیس اہلکار نے ان کے ساتھ بدتمیزی کی اور ان پر لاٹھی چلائی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کے خلاف آواز اٹھانے والوں کے خلاف غلط ماحول بنایا جا رہا ہے۔
