Masarrat
Masarrat Urdu

پاکستان کو ہندوستان کے اندرونی معاملات میں بولنے کا کوئی حق نہیں: ہندوستان

Thumb

نئی دہلی، 05 اگست (مسرت ڈاٹ کام) ہندوستان نے پاکستان کے نائب وزیر اعظم کی جانب سے پاکستان میں منائے گئے نام نہاد 'یومِ استحصال' پر کیے گئے تبصروں کو ہندوستان کے خلاف بدنیتی پر مبنی پروپیگنڈا قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا ہے اور کہا ہے کہ پاکستان کو ہندوستان کے اندرونی معاملات پر بولنے کا کوئی حق نہیں ہے۔

وزارتِ امورِ خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے پاکستانی نائب وزیر اعظم کے بیان پر سخت ردِ عمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ جموں و کشمیر اور لداخ کے مرکز کے زیرِ انتظام علاقے ہندوستان کا اٹوٹ اور ناقابلِ تقسیم حصہ ہیں، ہمیشہ سے ہیں اور ہمیشہ رہیں گے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی جھوٹ پھیلانے کی مایوس کن کوششوں کا مقصد اپنے خراب انسانی حقوق کے ریکارڈ اور دہشت گردی کا عالمی مرکز ہونے کی صورت حال سے بین الاقوامی توجہ ہٹانا ہے۔

ترجمان نے کہا، "ہندوستان، پاکستان کی جانب سے ہندوستان کے خلاف بدنیتی پر مبنی پروپیگنڈا پھیلانے کے لیے نام نہاد 'یومِ استحصال' منانے کی سیاسی لغویات اور بیکار کوششوں کو مکمل طور پر مسترد کرتا ہے۔ جموں و کشمیر اور لداخ کے مرکز کے زیرِ انتظام علاقے ہندوستان کا اٹوٹ اور ناقابلِ تقسیم حصہ ہیں، ہمیشہ سے رہے ہیں اور ہمیشہ رہیں گے۔" انہوں نے کہا کہ 5 اگست 2019 کو کی گئی آئینی تبدیلی مکمل طور پر ہندوستان کا اندرونی معاملہ ہیں۔ ان فیصلوں سے اس خطے کے لوگوں کے لیے بے مثال سماجی و اقتصادی ترقی، گڈ گورننس اور جمہوری بااختیاری کا راستہ ہموار ہوا ہے۔ پاکستان کو ان امور پر تبصرہ کرنے کا کوئی حق نہیں ہے جو مکمل طور پر ہندوستان کے اندرونی معاملے ہیں۔

مسٹر جیسوال نے کہا کہ جھوٹ پھیلانے کی پاکستان کی مایوس کن کوششوں کا مقصد صرف اپنے خراب انسانی حقوق کے ریکارڈ اور دہشت گردی کے عالمی مرکز ہونے کی صورتِ حال سے بین الاقوامی توجہ ہٹانا ہے۔ بین الاقوامی برادری اس وقت پاکستان کے زیرِ قبضہ جموں و کشمیر میں بنیادی حقوق کے بے رحمانہ پامالی کو دیکھ رہی ہے۔ حالیہ ہفتوں میں، مقامی لوگوں کی قیادت میں پرامن شہری حقوق کے احتجاجی مظاہروں کو دبانے کے لیے پاکستانی سکیورٹی فورسز نے مہلک تشدد، ٹارگٹڈ قتل اور سخت پابندیوں کا سہارا لیا ہے۔ نہتے شہریوں کے خلاف ایسی حکومت کی سرپرستی میں ہونے والا تشدد پاکستانی نظام کے گہرے منافقانہ رویے کو بے نقاب کرتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس سفارتی دکھاوے میں شامل ہونے کے بجائے، پاکستان کے لیے یہ بہتر ہوگا کہ وہ اپنے زیرِ قبضہ جموں و کشمیر میں خون خرابا روکے، اپنی سر زمین سے چلنے والے دہشت گرد نیٹ ورک کے خلاف قابلِ اعتماد، مصدقہ اور مستقل کارروائی کرے، اور اپنے غیر قانونی اور زبردستی قبضہ کیے گئے تمام ہندوستانی علاقوں کو فوری طور پر خالی کرے۔ دنیا ان منظم ڈراموں سے گمراہ نہیں ہوتی۔

قابلِ ذکر ہے کہ پاکستان ہر سال پانچ اگست کو یومِ احتجاج 'یومِ استحصال' کے طور پر مناتا ہے۔

Ads