وزارتِ خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال سے منگل کے روز میڈیا بریفنگ میں یہ پوچھا گیا تھا کہ بنگلہ دیش نے کہا ہے کہ محترمہ حسینہ کو ہندوستان کی زمین سے سیاسی تقریر کرنے یا ایسی سرگرمی کی اجازت نہیں دی جانی چاہیے جس سے بنگلہ دیش میں عدم استحکام پیدا ہو۔ بنگلہ دیش کا یہ بیان یہاں ہونے والے اس پروگرام سے پہلے آیا ہے جس میں محترمہ حسینہ کے ہندوستان میں جلاوطنی کے دوران پہلی بار ورچوئل خطاب کرنے کا امکان ہے۔ ترجمان نے کہا کہ یہ نجی میڈیا ادارے کا پروگرام ہے اور حکومت کا اس سے کوئی لینا دینا نہیں ہے۔
مسٹر جیسوال نے کہا، "آپ نے جس پروگرام کی بات کی ہے، وہ ایک نجی میڈیا ادارے کا اہتمام ہے۔ حکومتِ ہند کا اس اہتمام سے کوئی لینا دینا نہیں ہے اور ساتھ ہی اس اسٹیج سے کہی جانے والی بات کی ہم حمایت نہیں کرتے ہیں۔ ہمارا اس سے کوئی تعلق نہیں ہے۔" قابلِ ذکر ہے کہ محترمہ حسینہ کو بنگلہ دیش میں وزیر اعظم کے عہدے سے برطرف کیے جانے کے بعد سے وہ ہندوستان میں جلاوطنی کی زندگی گزار رہی ہیں۔
بنگلہ دیش میں وزیر اعظم رحمان کو برکس کی میٹنگ کے لیے دعوت نامے سے متعلق سوال پر ترجمان نے کہا کہ مسٹر رحمان کے وزیر اعظم بننے کے بعد انہیں ہندوستان آنے کی باضابطہ دعوت دی گئی تھی۔ انہوں نے کہا کہ جہاں تک برکس کے لیے الگ سے دعوت نامے کی بات ہے تو انہیں بمسٹیک کے چیئرمین کے طور پر برکس میٹنگ کے آؤٹ ریچ سیشن میں شرکت کے لیے دعوت نامہ دیا گیا ہے۔ یہ دعوت نامہ کے معیار کے تحت دیگر علاقائی تنظیموں کے سربراہوں کو دیے گئے دعوت ناموں کے مطابق دیا گیا ہے۔ محترمہ حسینہ کی حوالگی سے جڑے سوال پر انہوں نے تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا۔
