Masarrat
Masarrat Urdu

طلبہ پر پولیس کارروائی کے خلاف این ایس یو آئی کا 'اسٹوڈنٹس جسٹس مارچ'

Thumb

نئی دہلی، 03 اگست (مسرت ڈاٹ کام) نیشنل اسٹوڈنٹس یونین آف انڈیا (این ایس یو آئی) نے طلبہ پر مبینہ پولیس تشدد، پیلٹ گن کے استعمال اور پرامن احتجاج کے دوران کارروائی کے خلاف پیر کے روز دہلی میں 'اسٹوڈنٹس جسٹس مارچ' نکالا۔

این ایس یو آئی کے قومی صدر ونود جاکھڑ کی قیادت میں سینکڑوں کارکنان رائسینا روڈ قومی دفتر سے جنتر منتر کی طرف مارچ کرتے ہوئے انصاف اور جوابدہی کا مطالبہ کر رہے تھے۔ مارچ کو روکنے کے لیے پولیس نے راستے میں بیری کیڈنگ کی اور بھاری پولیس فورس تعینات کی۔ اس دوران کئی این ایس یو آئی کارکنوں کو حراست میں لیا گیا۔ مظاہرین نے طالب علموں کے ساتھ مبینہ تشدد کے خلاف نعرے بازی کرتے ہوئے مرکزی حکومت کے خلاف احتجاج درج کرایا۔ مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے مسٹر جاکھڑ نے کہا کہ پرامن طریقے سے اپنی آواز اٹھانے والے طالب علموں کے خلاف پولیس فورس، پیلٹ گن، بیری کیڈنگ اور حراست جیسی کارروائی جمہوری اقدار کے برعکس ہے۔ انہوں نے کہا کہ طالب علم ملک کا مستقبل ہیں، مجرم نہیں، اور ان کی آواز کو دبانے کی ہر کوشش تحریک کو مزید مضبوط کرے گی۔

مسٹر جاکھڑ نے وزیراعظم نریندر مودی سے طالب علموں کے ساتھ ہوئی مبینہ پولیس کارروائی پر معافی مانگنے اور مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ کے استعفے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے وارانسی میں اتر پردیش پولیس کے ذریعہ لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی کے خلاف درج ایف آئی آر کی بھی سخت مذمت کرتے ہوئے اسے اپوزیشن کی آواز دبانے کی کوشش قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ ایف آئی آر، پولیس کارروائی اور حراست سے طالب علموں اور نوجوانوں کی آواز کو دبایا نہیں جا سکتا اور این ایس یو آئی طالب علموں کے جمہوری حقوق کے تحفظ کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھے گی۔

 

Ads