تہران، 3 اگست (مسرت ڈاٹ کام) ایران اور عمان نئی بحری گزرگاہ کے تعین پر متفق ہیں، جنگ سے قبل کا نظام بحال نہیں ہوگا اور مستقبل کا انتظام علاقائی مشاورت سے طے کیا جائے گا۔
مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز جنگ سے پہلے کی صورتحال میں ہرگز واپس نہیں جائے گی، جبکہ عمان کے ساتھ ہونے والے اتفاق رائے کا مطلب آبنائے ہرمز کو سابقہ حالت میں بحال کرنا نہیں ہے۔
ایک ٹی وی انٹرویو میں اسماعیل بقائی نے بتایا کہ آبنائے ہرمز کے مستقبل کے حوالے سے تہران اور مسقط کے درمیان کافی عرصے سے مذاکرات جاری تھے، جن کا مقصد خطے میں محفوظ بحری آمدورفت کے لیے ایک واضح فریم ورک تشکیل دینا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایران اور عمان، آبنائے ہرمز کے دو ساحلی ممالک ہونے کے ناطے، بحری سلامتی اور محفوظ جہاز رانی کو یقینی بنانے کی مشترکہ ذمہ داری رکھتے ہیں۔ جنگ بندی کے بعد 8 اپریل سے دونوں ممالک کے درمیان متعدد ادوار کے مذاکرات ہوئے۔
ترجمان نے بتایا کہ جنگ کے بعد ایرانی وزیر خارجہ سید عباس عراقچی کا پہلا غیر ملکی دورہ عمان تھا، جہاں سلطان عمان اور عمانی وزیر خارجہ سے ملاقاتوں میں آبنائے ہرمز اور محفوظ بحری راستے کے قیام پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
اسماعیل بقائی نے جنگ کے خاتمے سے متعلق مفاہمتی یادداشت کی پانچویں شق کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ مستقبل میں آبنائے ہرمز کا انتظام ایران، عمان سے مشاورت اور خطے کے دیگر ممالک کے ساتھ بات چیت کے ذریعے انجام دے گا۔
انہوں نے کہا کہ معاہدے پر عمل درآمد کے ابتدائی 22 سے 23 روز تک آبنائے ہرمز کا شمالی راستہ مکمل طور پر محفوظ تھا اور بحری جہاز معمول کے مطابق گزر رہے تھے، تاہم 30 روزہ عبوری مدت مکمل ہونے سے پہلے ایران پر دوبارہ جارحیت کی گئی۔
ترجمان کے مطابق مستقبل میں متفقہ بحری راستہ نہ موجودہ شمالی راستہ ہوگا اور نہ ہی موجودہ جنوبی راستہ، بلکہ ایران اور عمان کے درمیان اتفاق رائے سے ایک نئی گزرگاہ کا تعین کیا جائے گا۔
انہوں نے واضح کیا کہ تہران اور مسقط کے درمیان ہونے والے یہ مذاکرات مکمل طور پر دوطرفہ نوعیت کے ہیں اور ان کا کسی تیسرے فریق سے کوئی تعلق نہیں۔
اسماعیل بقائی نے زور دیتے ہوئے کہا کہ ایسا نظام وضع کرنا ضروری ہے جس کے تحت آبنائے ہرمز کو ایران کے خلاف جارحیت کرنے والے عناصر کے مفادات کے لیے استعمال نہ کیا جاسکے اور اس عمل میں ایران کے خودمختار حقوق کا مکمل احترام یقینی بنایا جائے۔
