راہل گاندھی نے وزیر اعظم مودی کے اس ویڈیو پیغام کا حوالہ دیا، جس میں انہوں نے حالیہ اینٹی نیٹ احتجاج، سوالیہ پرچوں کے لیک ہونے اور نئی دہلی کے جنتر منتر پر منعقدہ مظاہروں کے دوران مبینہ طور پر ان اور ان کی آنجہانی والدہ کے خلاف ذاتی نوعیت کے نعرے لگانے والے نوجوانوں کو معاف کرنے کی بات کہی تھی، ساتھ ہی تحمل اور قومی یکجہتی کی اپیل بھی کی تھی۔ ان احتجاجوں کے دوران "چلو پارلیمنٹ" مارچ پر ریپڈ ایکشن فورس (RAF) نے آنسو گیس کے گولے داغے، لاٹھی چارج کیا اور پلاسٹک کی گولیاں بھی چلائی تھیں۔
مہابلی پورم میں، جو چنئی سے تقریباً 55 کلومیٹر دور واقع ہے، ضلع کانگریس کمیٹی (ڈی سی سی) کے صدور کے 10 روزہ تربیتی کیمپ کی اختتامی تقریب میں شرکت کے بعد غمزدہ والدین سے ملاقات کے بعد راہل گاندھی نے سوشل میڈیا پر اپنی پوسٹ میں کہا کہ وزیر اعظم نے آج تک کسی ایک ایسے والدین سے ملاقات نہیں کی، جس نے اپنے بچے کو کھو دیا ہو، اور نہ ہی کسی ایسے طالب علم کے ساتھ بیٹھے، جس کا مستقبل سوالیہ پرچہ لیک ہونے کی وجہ سے برباد ہو گیا۔
انہوں نے کہا کہ سوالیہ پرچوں کے لیک ہونے اور امتحانات کی منسوخی کے باعث طلبہ کی برسوں کی محنت ایک لمحے میں ضائع ہو گئی۔
وزیر اعظم سے سوال کرتے ہوئے راہل گاندھی نے کہا کہ جب ایک ایسا نظام خود طلبہ کے ساتھ ایماندار نہیں، تو ایسے نظام میں ایمانداری سے محنت کرنے والے طلبہ کو "معاف" کرنے کی بات کرنا حیران کن ہے۔
انہوں نے کہاکہ "والدین کو اپنے بچوں کے غم میں مبتلا دیکھنے سے زیادہ تکلیف دہ کوئی منظر نہیں ہو سکتا۔ ہر نوجوان جان کے ضائع ہونے کے پیچھے ایک ایسا خاندان ہے، جو ایسی تکلیف اٹھا رہا ہے جو کبھی ختم نہیں ہوگی، اور یہ ہمارے ٹوٹے ہوئے تعلیمی نظام پر سنگین سوالات کھڑے کرتا ہے۔"
راہل گاندھی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھاکہ "سوالیہ پرچے لیک ہوئے، امتحانات منسوخ ہوئے اور طلبہ کی برسوں کی تیاری ایک ہی رات میں برباد ہو گئی۔ ہمارے طلبہ کو ایسے نظام میں ایمانداری سے محنت کرنے کو کہا جاتا ہے، جو خود ان کے ساتھ ایماندار نہیں۔ اور وزیر اعظم کو یہ کہنے کی جرات ہے کہ وہ طلبہ کو 'معاف' کر رہے ہیں۔"
انہوں نے مزید کہاکہ "انہوں نے کسی ایک غمزدہ والدین سے ملاقات نہیں کی اور نہ ہی کسی ایسے طالب علم کے ساتھ بیٹھے، جس کا مستقبل لیک ہوئے سوالیہ پرچے نے چھین لیا۔"
راہل گاندھی نے آخر میں کہاکہ "بھارت کے طلبہ کو وزیر اعظم کی معافی نہیں چاہیے، بلکہ وہ ان سے معذرت کے مستحق ہیں۔"
