Masarrat
Masarrat Urdu

سپریم کورٹ نے کوئلہ بلاک الاٹمنٹ کیس میں منموہن سنگھ کو بری کرنے سے متعلق سی بی آئی کی کلوزر رپورٹ کو منظوری دی

Thumb

نئی دہلی، 29 جولائی (مسرت ڈاٹ کام) سپریم کورٹ نے کوئلہ بلاک الاٹمنٹ کیس میں سابق وزیر اعظم منموہن سنگھ کے خلاف مجرمانہ مقدمہ بند کردیا ہے اور انہیں بری کیے جانے سے متعلق سی بی آئی کی 2014 میں داخل کی گئی دو کلوزر رپورٹس سے اتفاق کیا ہے۔ یہ معاملہ اوڈیشہ میں ہنڈالکو کو تلابیرا-II بلاک الاٹمنٹ سے متعلق ہے۔

چیف جسٹس سوریا کانت، جسٹس جوئے مالیہ باگچی اور جسٹس وی موہن پر مشتمل بنچ نے بدھ کے روز انہیں بری کرنے کی تفتیشی ایجنسی کی سفارش کو تسلیم کرتے ہوئے اس اپیل کو منظور کر لیا، جس میں انہوں نے (مسٹرسنگھ نے) سی بی آئی کی خصوصی عدالت کی جانب سے 2015 میں انہیں سمن کرنے کے حکم کو چیلنج کیا تھا۔ اپیل کو قبول کرتے ہوئے بنچ نے کہا کہ خصوصی عدالت کے جج کے پاس سی بی آئی کے ذریعے دائر کردہ کلوزر رپورٹ کو مسترد کرنے اور معاملے کا نوٹس لینے کے لیے کوئی ٹھوس وجہ نہیں تھی۔

عدالت نے نچلی عدالت کے احکامات کو کالعدم قرار دیتے ہوئے تفتیشی ایجنسی کی جانب سے دائر کلوزر رپورٹ کو قبول کر لیا اور معاملے کو حتمی طور پر بند کر دیا۔ سینئر ایڈووکیٹ کپل سبل نے پہلے اس معاملے میں مسٹر سنگھ کا موقف پیش کیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ اب اس کارروائی کو اس وضاحت کے ساتھ ختم کیا جا سکتا ہے کہ سابق وزیر اعظم کے خلاف کیے گئے تبصروں کو ہٹادیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا، ”میں نہیں چاہتا کہ یہ تبصرے برقرار رہیں۔“ سینئر وکیل ابھشیک منو سنگھوی بھی سابق وزیر اعظم کی طرف سے پیش ہوئے۔

قابلِ ذکر ہے کہ یکم اپریل 2015 کو سپریم کورٹ نے سی بی آئی کی خصوصی عدالت کی جانب سے مسٹر سنگھ اور مسٹر کمار منگلم برلا کو 11 مارچ 2015 کو جاری کیے گئے سمن پر روک لگا دی تھی۔ عدالت نے اس معاملے میں آگے کی کارروائی پر بھی روک لگا دی تھی۔ مسٹر سنگھ اور مسٹر برلا کے علاوہ عدالت نے وزارتِ کوئلہ کے سابق سکریٹری پی سی پارکھ، ڈی بھٹاچاریہ اور ہنڈالکو کو جاری کردہ سمن پر بھی روک لگائی تھی۔ سی بی آئی کی خصوصی عدالت نے سی بی آئی کی طرف سے داخل کی گئی دو کلوزر رپورٹس کو مسترد کرنے کے بعد مسٹر سنگھ، مسٹر برلا اور دیگر کو سمن جاری کیا تھا۔ مسٹر برلا نے الگ سے 'پریوینشن آف کرپشن ایکٹ 1988' کی دفعہ 13(1)(d)(iii) کی آئینی حیثیت کو چیلنج کیا ہے۔

مسٹرسنگھ کو بری کیے جانے کا سی بی آئی کا فیصلہ ان کے انتقال (26 دسمبر 2024) کے ڈیڑھ سال سے بھی زیادہ عرصے بعد آیا ہے۔

 

Ads