ذرائع کے مطابق، مرکزی حکومت اس معاملے کو سنجیدگی سے لے رہی ہے اور میٹا کی جانب سے دی گئی تکنیکی خرابی کی وضاحت کے ساتھ ساتھ ان حالات کی بھی تحقیقات کر رہی ہے، جن کی وجہ سے ویڈیو ہٹایا گیا۔ اسی سلسلے میں وزارت نے میٹا (فیس بک اور انسٹاگرام) کے حکام کو طلب کیا ہے۔
میٹا کے ترجمان نے ویڈیو بحال ہونے کے بعد منگل کو جاری ایک بیان میں کہا، "یہ مواد غلطی سے ہٹا دیا گیا تھا اور اب اسے بحال کر دیا گیا ہے۔"
مسٹر مودی کا یہ ویڈیو 23 جولائی کو اپ لوڈ کیا گیا تھا، جس میں انہوں نے کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) کے ذریعہ منعقدہ طلباء کے مظاہرے کے دوران 'جین زی' کو خطاب کرتے ہوئے تعلیمی اصلاحات اور امتحانی نظام پر اپنی بات رکھی تھی۔ اپنے خطاب میں مسٹر مودی نے پیپر لیک روکنے کے لئے سخت قانونی دفعات لانے اور فاسٹ ٹریک عدالتوں کے قیام کی بات کہی تھی۔
ساتھ ہی انہوں نے پیپر لیک کے معاملات میں سخت سزا اور خصوصی عدالتوں سے متعلق بل کو پارلیمنٹ میں پیش کرنے سے پہلے مرکزی کابینہ کے سامنے رکھنے کی بات کہی تھی۔ انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ حکومت نے تقریباً 22 لاکھ طلباء کا تعلیمی سال متاثر نہیں ہونے دیا اور نوجوانوں کا مستقبل حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ ویڈیو بحال کیے جانے سے پہلے ہندوستان میں فیس بک صارفین کو ایک پیغام دکھائی دے رہا تھا، جس میں کہا گیا تھا کہ قانونی درخواست کے بعد اس ویڈیو کی علاقائی سطح پر دستیابی محدود کر دی گئی ہے۔ یہ ویڈیو ہٹائے جانے سے پہلے اسے لاکھوں بار دیکھا جا چکا تھا۔
