ایران کے نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی نے ایک بیان میں کہا کہ مذاکرات کا آغاز اسلام آباد میں ہوا، جہاں امریکی وفد نے ایسا منصوبہ پیش کیا جس میں ایران کے لیے ناقابل قبول شرائط شامل تھیں۔ ان کے مطابق تہران نے ان تجاویز کو فوری طور پر مسترد کر دیا کیونکہ وہ ایران کے بنیادی مؤقف سے متصادم تھیں۔
غریب آبادی نے کہا کہ امریکی وفد نے پہلے ہی واضح کر دیا تھا کہ اگر اس کی تجاویز منظور نہ کی گئیں تو مذاکرات کو ناکام تصور کیا جائے گا۔ ان کے مطابق بعد ازاں امریکی نمائندے مذاکرات ختم کرکے واپس چلے گئے، جبکہ ایرانی وفد نے نہ انہیں روکنے کی کوشش کی اور نہ ہی بات چیت جاری رکھنے کی کوئی درخواست کی۔
انہوں نے کہا کہ ایران نے پورے مذاکراتی عمل کے دوران اپنی سفارتی پالیسی، قومی مفادات اور خودمختاری کے اصولوں پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا، جو تہران کی باوقار سفارت کاری کی عکاسی کرتا ہے۔
نائب وزیر خارجہ نے آبنائے ہرمز کی صورتحال کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ بعد میں عمان میں بھی رابطے ہوئے، جہاں عمانی حکام نے جہازوں کی آمدورفت کے لیے کھولے گئے جنوبی راستے کو عارضی طور پر کھلا رکھنے کی تجویز دی، تاہم ایران نے اسے بھی قبول نہیں کیا۔
