کانگریس کے شعبۂ مواصلات کے انچارج جے رام رمیش نے جمعرات کو سماجی رابطے کے پلیٹ فارم ایکس پر کہا کہ گزشتہ رات حکومت کا مؤقف پیش کرنے والے جے پی نڈا کو اپوزیشن پر الزام تراشی کرنے کے بجائے مرکزی وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان اور وزیرِ اعظم نریندر مودی کی ناکامیوں کو تسلیم کرنا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ مودی حکومت نے امتحانی نظام کو مرکزی سطح پر منظم کرنے کے لیے نیشنل ٹیسٹنگ ایجنسی (این ٹی اے) قائم کی، لیکن اس کے قیام کے بعد سے مسلسل پیپر لیک اور امتحانات میں بے ضابطگیوں کے واقعات سامنے آتے رہے ہیں۔
جے رام رمیش نے کہا کہ 2024 کے پیپر لیک کے بعد حکومت نے اصلاحات کا وعدہ کرتے ہوئے کے رادھا کرشنن کمیٹی تشکیل دی، جس نے این ٹی اے میں اصلاحات کے لیے 101 سفارشات پیش کیں، لیکن ان پر سنجیدگی سے عمل نہیں کیا گیا۔
انہوں نے الزام لگایا کہ این ٹی اے کے ڈائریکٹر جنرل کا اہم عہدہ طویل عرصے تک اضافی چارج کے تحت چلتا رہا، جس کے نتیجے میں نیٹ-یو جی 2026 کا پرچہ لیک ہوا اور امتحان منسوخ کرنا پڑا۔
ان کا کہنا تھا کہ این ٹی اے اور محکمۂ اعلیٰ تعلیم نے پارلیمنٹ کی تعلیم سے متعلق قائمہ کمیٹی کے سامنے بھی پیپر لیک سے انکار کیا اور کمیٹی کی سفارشات کو بھی نظر انداز کیا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ یو جی سی-نیٹ 2026 کے امتحانات میں بھی پیپر لیک اور دیگر بے ضابطگیوں کے واقعات سامنے آئے۔
کانگریس رہنما نے کہا کہ جب طلبہ پیپر لیک اور تعلیمی پالیسیوں کے خلاف سڑکوں پر احتجاج کے لیے نکلے تو حکومت نے ان کے خلاف طاقت کا استعمال کیا۔ ان کے مطابق نیٹ-یو جی 2026 کا پیپر لیک محض ایک واقعہ نہیں بلکہ دھرمیندر پردھان کے طرزِ کار، این ٹی اے کی ناکامیوں اور مودی حکومت کی تعلیمی پالیسیوں میں موجود گہری خامیوں کا نتیجہ ہے۔
