بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ (بی سی بی) نے سال کے آغاز میں اعلان کیا تھا کہ وہ اگست-ستمبر 2026 میں تین ایک روزہ اور تین ٹی-20 میچوں کی سیریز کے لیے ہندوستانی ٹیم کی میزبانی کرے گا۔ یہ دورہ ابتدا میں 2025 کے لیے طے تھا، لیکن دونوں ممالک کے درمیان سفارتی کشیدگی کے باعث ملتوی کر دیا گیا تھا۔
حالیہ عرصے میں ہندوستان اور بنگلہ دیش کے تعلقات میں کشیدگی دیکھی گئی، جس کے باعث اُس وقت کی یونس حکومت نے سکیورٹی وجوہات کی بنا پر ہندوستان میں منعقدہ گزشتہ ٹی-20 ورلڈ کپ میں شرکت نہ کرنے کا فیصلہ کیا تھا، جس سے مجوزہ سیریز کے انعقاد پر بھی سوالات اٹھنے لگے تھے۔
تاہم اس ماہ کے آغاز میں بی سی بی کی جانب سے ہندوستان کے خلاف سیریز کے لیے ٹیلی ویژن اور میڈیا حقوق کی فروخت کا عمل شروع کیے جانے سے دورے کے دوبارہ پٹری پر آنے کے اشارے ملے۔ اس تاثر کو اس وقت مزید تقویت ملی جب اگست میں ہندوستان کے سری لنکا کے دورے کے پروگرام میں ٹی-20 میچ شامل نہیں کیے گئے، حالانکہ اس پر پہلے غور کیا جا رہا تھا، جس سے بنگلہ دیش کے دورے کی راہ ہموار ہونے کی امید پیدا ہوئی۔
بی سی بی نے یہ بھی واضح کیا کہ اگر ضرورت پڑی تو ہندوستانی ٹیم کی میزبانی کے لیے سکیورٹی انتظامات مزید سخت کیے جائیں گے۔ تاہم میڈیا حقوق کی فروخت کے عمل کو، ٹینڈر جاری ہونے کے باوجود، روک دیے جانے کے بعد سیریز کے انعقاد پر ایک بار پھر شکوک و شبہات پیدا ہو گئے۔
امین الحق نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ’’موجودہ حکومت کھیلوں کی سفارت کاری کو بہت اہمیت دیتی ہے۔ کرکٹ ہمارے لیے وقار کی علامت ہے اور عالمی کرکٹ میں ہماری مضبوط شناخت ہے۔ ہم پہلے ہی ہندوستانی سفارت خانے سے بات چیت کر چکے ہیں، ان کی جانب سے بھی رابطہ کیا گیا ہے اور سبھی ستمبر میں ہندوستانی ٹیم کی بنگلہ دیش آمد کے منتظر ہیں۔‘‘
انہوں نے کہا، ’’مجھے یقین ہے کہ ہندوستانی ٹیم کی آمد کے بعد دونوں ممالک کے درمیان حالیہ معمولی کشیدگی بھی ختم ہو جائے گی اور کھیلوں کی سفارت کاری، باہمی رابطے اور آمدورفت کے ذریعے ہمارے ہمسایہ ملک کے ساتھ تعلقات مزید مستحکم ہوں گے۔‘‘
اس سے قبل بنگلہ دیش کی وزارتِ کھیل نے ورلڈ کپ سے دستبرداری کے معاملے کی تحقیقات کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دی تھی، جس کا مقصد یہ جانچنا تھا کہ آیا ورلڈ کپ سے دستبرداری سفارتی ناکامی کا نتیجہ تھی یا نہیں۔
