کانگریس اراکینِ پارلیمنٹ وزیرِ اعظم نریندر مودی، وزیرِ داخلہ امت شاہ اور وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفیٰ کا مطالبہ کرتے ہوئے سرکار سے طلبہ کے خلاف ہوئی کارروائی پر جواب مانگ رہے تھے۔ کانگریس لیڈروں نے مسٹر کھرگے کی رہائش گاہ سے وزیرِ اعظم رہائش گاہ تک مارچ کیا۔ دھرنے میں کانگریس جنرل سکریٹری پرینکا گاندھی واڈرا، تنظیم کے جنرل سکریٹری مسٹر کے سی وینوگوپال، ناصر حسین، جے رام رمیش، رکنِ پارلیمنٹ امریندر سنگھ راجہ وڑنگ سمیت کئی دیگر سینئر لیڈران شامل ہوئے۔ مظاہرے کے دوران لیڈروں نے طلبہ پر ہوئے لاٹھی چارج اور پیپر لیک کے خلاف نعرے بازی کی۔
مسٹر گاندھی نے کہا کہ پارٹی لیڈر طلبہ پر ہوئے مظالم کے لیے وزیرِ اعظم سے جواب مانگنے کے لیے مارچ کر کے یہاں پہنچے ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ سرکار نہ تو اس معاملے کی کوئی جواب دہی طے کرنا چاہتی ہے اور نہ ہی اس پر پارلیمنٹ میں بحث کرانے کو تیار ہے۔ انہوں نے کہا کہ پیپر لیک کے واقعے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان کو بھی اپنے عہدے سے استعفیٰ دینا چاہیے۔
