مسٹر کھرگے نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم 'ایکس' پر اپنے ایک پیغام میں کہا، "کل ملک نے طلبہ کے پرامن جمہوری مظاہرے پر لاٹھی چارج، آنسو گیس کے گولے اور سرکاری جبر دیکھا۔ انصاف کا مطالبہ کرنے والے طلبہ کی آواز کا جواب حکومت نے طاقت کے استعمال سے دیا، جمہوریت میں ایسا نہیں ہونا چاہیے۔" کانگریس صدر نے کہا کہ ان حالات میں انہوں نے اپنی سالگرہ نہ منانے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی سالگرہ کی مبارکباد دینے والے کانگریس لیڈروں، کارکنوں، حامیوں، خیر خواہوں اور تمام شہریوں کا شکریہ ادا کیا۔
مسٹر کھرگے نے کہا کہ حکومت کو بتانا چاہیے کہ طلبہ کے انصاف کے مطالبے کا جواب لاٹھیوں اور آنسو گیس سے کیوں دیا گیا، پارلیمنٹ کو تقریباً سیل کیوں کیا گیا اور انٹرنیٹ سروسز کیوں بند کی گئیں۔ انہوں نے سوال کیا کہ بار بار ہونے والے پیپر لیک اور لاکھوں نوجوانوں کی تکلیف کی ذمہ داری کون لے گا۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ اس معاملے پر پارلیمنٹ میں فوری تفصیلی بحث کرائی جائے، وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان اخلاقی اور سیاسی ذمہ داری لیتے ہوئے استعفیٰ دیں، محفوظ ڈیجیٹل سوالیہ بینک اور رینڈمائزڈ سوالناموں پر مبنی طالب علم پر مرکوز امتحانی نظام نافذ کیا جائے، تعلیمی نظام کو سیاسی مداخلت سے پاک رکھا جائے نیز امتحان میں بے ضابطگی ہونے پر لازمی دوبارہ امتحان اور طلبہ کو معاوضہ دینے کا قانونی التزام کیا جائے۔
مسٹر کھرگے نے کہا، "ہمارے بچوں کو جبر نہیں، انصاف ملنا چاہیے۔"
