کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے نے پیپر لیک کے خلاف احتجاج کرنے والے طلبہ پر پولیس کارروائی کو غلط قرار دیتے ہوئے الزام لگایا کہ حکومت نوجوانوں کی آواز دبانے کی کوشش کر رہی ہے۔
انہوں نے پارلیمنٹ ہاؤس احاطے میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ حکومت نوجوانوں اور طلبہ پر لاٹھی چارج کرا رہی ہے۔ اگر حکومت امتحانات منعقد کرانے کی اہل نہیں ہے تو اسے اقتدار چھوڑ دینا چاہیے۔
لوک سبھا میں قائدِ حزبِ اختلاف راہل گاندھی نے وزیر اعظم نریندر مودی پر نوجوانوں کو نظر انداز کرنے کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ وہ نوجوان مخالف وزیر اعظم ہیں۔ انہوں نے ایک ویڈیو پیغام میں کہا کہ وزیر اعظم اتنے نوجوان مخالف ہیں کہ وہ ناکام وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان سے بھی استعفیٰ نہیں لے سکتے۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک کے نوجوانوں کے سوالات جائز ہیں اور حکومت کو ان کا جواب دینا چاہیے۔
کانگریس کی جنرل سکریٹری پرینکا گاندھی واڈرا نے کہا کہ پیپر لیک کے خلاف طلبہ جنتر منتر پر دھرنا دے رہے ہیں، لیکن ان پر لاٹھی چارج کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ حکومت نوجوانوں کی آواز دبانے کی کوشش کر رہی ہے۔ ان کے مطابق کانگریس نئی تعلیمی پالیسی پر بحث کا مطالبہ کر رہی ہے کیونکہ اس میں سنگین خامیاں ہیں، مگر حکومت اس پر بحث کے لیے تیار نہیں۔ اس کے بجائے احتجاج کرنے والے طلبہ پر آنسو گیس کے گولے داغے جا رہے ہیں اور ان کے ساتھ مارپیٹ کی جا رہی ہے۔
شیو سینا (ادھو بالا صاحب ٹھاکرے) کے راجیہ سبھا رکن سنجے راوت نے پیپر لیک کے معاملے پر پارلیمنٹ کی جانب مارچ کرنے والے طلبہ کو دہلی پولیس کی جانب سے روکے جانے پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کا یہ رویہ غیر جمہوری ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ حکومت خوف کے باعث اس طرح کی کارروائیاں کر رہی ہے اور ملک کے اہم آئینی ادارے برسراقتدار حکومت کے "غلام" بن چکے ہیں۔
تمل ناڈو کے سابق نائب وزیر اعلیٰ اور دراوڑ منیترا کڑگم (ڈی ایم کے) کے رہنما ادے نیدھی اسٹالن نے کہا کہ وہ نیٹ امتحان میں مبینہ بے ضابطگیوں کے خلاف پرامن ریلی میں شریک کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) کے نوجوانوں کے خلاف پولیس کی مبینہ سختی کی شدید مذمت کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دہلی سے سامنے آنے والے مناظر انتہائی تشویش ناک ہیں اور حکومت طلبہ کے خدشات دور کرنے کے بجائے پولیس طاقت کا استعمال کر رہی ہے، جو جمہوریت میں قابل قبول نہیں۔
مغربی بنگال کی سابق وزیر اعلیٰ اور ترنمول کانگریس کی سربراہ ممتا بنرجی نے بھی پولیس کارروائی کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ وہ دہلی میں طلبہ اور نوجوانوں پر مبینہ پولیس تشدد کی سخت مذمت کرتی ہیں۔ انہوں نے سوال کیا کہ آخر کیسی حکومت اپنے ہی طلبہ سے خوفزدہ ہوتی ہے اور کیسا جمہوری نظام ہے جو سوالات کا جواب بات چیت کے بجائے لاٹھی اور آنسو گیس سے دیتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ ملک طلبہ، کسانوں، خواتین، مزدوروں اور ہر شہری کا ہے۔ اختلافِ رائے جرم نہیں اور طاقت کا استعمال اچھی حکمرانی نہیں ہو سکتا۔ انہوں نے احتجاجی نوجوانوں کے حوصلے، صبر اور جدوجہد کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ جوابدہی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا۔
سماج وادی پارٹی کے صدر اکھلیش یادو نے کہا کہ ان کی جماعت طلبہ کے ساتھ کھڑی ہے اور ان کا مستقبل محفوظ ہونا چاہیے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ اتر پردیش میں برسوں سے امتحانی نظام متاثر رہا ہے اور اب بھی مسلسل پیپر لیک کے واقعات سامنے آ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نیٹ جیسے باوقار امتحان کا پرچہ لیک ہونا انتہائی شرمناک ہے اور یہ "ترقی یافتہ بھارت" کے تصور پر سوالیہ نشان ہے۔
اکھلیش یادو نے کہا کہ ان کی پارٹی کے ارکانِ پارلیمنٹ نے احتجاجی طلبہ سے ملاقات کی ہے اور ان کی حالت دیکھی ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ طلبہ کے ساتھ بدسلوکی کی گئی۔
